ٹرمپ کا گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی حق تسلیم کرنے کا اعلان

امریکا کے اس اعلان کی جہاں شام کی طرف سے سخت مذمت اور مخالفت کی گئی ہے۔


Editorial March 24, 2019
امریکا کے اس اعلان کی جہاں شام کی طرف سے سخت مذمت اور مخالفت کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

شام اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کے ساتھ غیر قانونی الحاق کو تسلیم کرنے کے اعلان کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اگلے روزکہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا شام کے تزویراتی اہمیت کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کرلے۔ شام کے اس علاقے پر اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔ امریکا کے اس اعلان کی جہاں شام کی طرف سے سخت مذمت اور مخالفت کی گئی ہے، وہاں اسرائیل کی طرف سے امریکا کے اس اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز امریکا نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خود مختاری کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ علاقہ اسرائیل کی سیکیورٹی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ شامی حکومت نے صدر ٹرمپ کے بیان کو انتہائی غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ امریکا کی طرف سے اسرائیل کی اندھی تقلید کا ثبوت ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور دمشق میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب ایران شام کو پلیٹ فارم بنا کر اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے، صدر ٹرمپ نے دلیری کے ساتھ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کر لی ہے۔ واضح رہے 2017میں امریکا نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور اگلے برس تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کردیا۔

دوسری طرف فلسطین کا موقف ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت ہو گا۔ گولان کی پہاڑیاں شام کا وہ علاقہ ہے جو 1200 کلو میٹر مربع پر پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ علاقہ شامی دارالحکومت سے 60 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس علاقے میں اسرائیل اپنی 30 بستیاں قائم کر چکا ہے جہاں 20 ہزار سے زائد یہودی منتقل ہو چکے ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں شامی لوگ بھی وہاں رہتے ہیں۔

اس علاقے کے ایک جانب لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد بھی لگتی ہے۔ یہ علاقہ 52 سال سے اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس علاقے پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتی ہے جب کہ یہ علاقہ شام کی سرحدی سلامتی کا معاملہ ہے۔

اس پہاڑی سلسلے سے شامی دارالحکومت دمشق واضح طور پر نظر آتا ہے جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شامی فوج یہاں سے اسرائیل پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔ عسکری اہمیت کے علاوہ ان پہاڑیوں پر ہونے والی بارش کے پانی سے اسرائیل فائدہ اٹھاتا ہے جو اسرائیل کے لیے پانی کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔

 

مقبول خبریں