بھوک کا مسئلہ

پاکستان میں وافر خوراک موجود ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔


Editorial March 28, 2019
پاکستان میں وافر خوراک موجود ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کے لیے مناسب خوراک کی قلت کوئی نئی بات نہیںہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ناقص خوراک یا کم خوراک کے نتیجے میں نوزائیدہ بچوں کے وزن میں کمی ہوتی ہے ۔ ماؤں کی صحت بھی کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے پیدائش کے وقت اکثر بچوں کا وزن معمول سے کم ہوتا ہے۔

ان میں سے ایک چوتھائی سے کچھ کم بچے وزن میں شدید کمی کا شکار ہیں۔ یہ بچے صرف خوراک کی کمی کا شکار ہی نہیں بلکہ ان کے ماحول میں حفظان صحت کا بھی قطعاً خیال نہیں رکھا جاتا جس سے ان کی زندگی کے لیے بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے صرف انسانی صحت کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر خوراک کی قلت نہیں ہے بلکہ خوراک کی تقسیم کے نظام میں اس قدر بے انصافی اور بے پروائی ہوتی ہے کہ خوراک سب تک ضرورت کے مطابق پہنچتی ہی نہیں اور یہی ان کی فاقہ کشی کی اصل وجہ ہوتی ہے۔

حالانکہ پاکستان میں وافر خوراک موجود ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں، سندھ کے علاقے تھر میں اکثر اوقات خوراک کی کمی کی شکایت پیدا ہوتی ہے اور ہر سال خوراک کی کمی سے معصوم بچوں کی ہلاکت کی خبریں شایع ہوتی ہیں۔ بچوں کے لیے خوراک کی کمی ایک عالمی مسئلہ ہے اور 5 سال کی عمر تک آدھے بچے تو خوراک کی کمی کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو 2011ء کے سروے کے مطابق 44 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔

علاوہ ازیں بچوں کی عمومی بیماریوں کا بہتر علاج بھی پاکستان میں مہیا نہیں ہے جو بچوں کی اموات کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں صرف 4 فیصد نوزائیدہ بچے ہی صحت کے عالمی معیار کے مطابق پرورش پاتے اور پروان چڑھتے ہیں۔

مقبول خبریں