پاکستان سے سیریز زمبابوے کو 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا

ملک میں کرکٹ کو قرضوں کی آکسیجن کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش جاری


AFP August 13, 2013
ملک میں کرکٹ کو قرضوں کی آکسیجن کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش جاری۔ فوٹو: اے ایف پی / فائل

NEW DEHLI: پاکستانی ٹیم کی میزبانی زمبابوے کیلیے نقصان کا سودا ثابت ہوگی۔

قرضوں کے بوجھ تلے دبے زیڈ سی کو 10 لاکھ ڈالر کا مزید خسارہ برداشت کرنا پڑے گا، بنگلہ دیش کے بعد سری لنکن ٹیم کا دورہ بھی مالی طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق زمبابوے کرکٹ بورڈ کی حالت کافی ابتر اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، یہاں پر کرکٹ کو قرضوں کی آکسیجن کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس وقت زیڈ سی کے قرضوں کی مالیت اثاثوں سے بھی 8.36 ملین ڈالر زائد ہوچکی ہے، اسے 15 لاکھ ڈالر قرض ادا کرنا ہے جو مختلف بینکوں کے ساتھ آئی سی سی سے بھی لے رکھا ہے۔



زیڈ سی کے چیئرمین پیٹرچنگوکا نے کہا کہ گزشتہ برس ہمیں 4.2 ملین ڈالر نقصان برداشت کرنا پڑا، بینکوں سے لیا ہوا قرض چار برس کے اندر ادا کرنا ہے۔ حال ہی میں بھارتی ٹیم نے زمبابوے کا دورہ کیا جو فیلڈ میں تو اس کیلیے خوشگوار ثابت نہیں ہوااور پانچوں ون ڈے میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر مالی طور پر زمبابوین بورڈ کو اس سے کافی فائدہ ہوا ایک اندازے کے مطابق اسے6 سے 8 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی، پیٹرچنگوکا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم کے دورے سے حاصل ہونیوالی رقم سے پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی رواں برس میزبانی میں ہونے والے نقصان کی تلافی ہوجائیگی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان تینوں ممالک کی میزبانی پر فی کس 10 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوگا، بنگلہ دیشی ٹیم پہلے ہی زمبابوے کا دورہ کرچکی، اب پاکستان ٹیم رواں ماہ ڈیرا ڈالنے والی ہے، اس کے بعد سری لنکن ٹیم آئے گی۔ زمبابوے میں کرکٹرز کو بھی دوسرے ممالک کی بانسبت بہت کم معاوضہ ملتا جبکہ یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ بورڈ انتظامیہ پر زیادہ رقم خرچ کرتی ہے۔ چنگو کا قرضوں کے گرداب سے نکلنے کا کوئی فارمولا تو نہیں پیش کرسکے، البتہ یہ ضرور کہا کہ ہم اپنے اخراجات مزید کم کرنے کی کوشش کریں گے۔