آسٹریلیا کی ون ڈے سیریز میں فتح

سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر تحفظات اور من مانیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔


Editorial March 29, 2019
سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر تحفظات اور من مانیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا نے تیسرے ون ڈے میں بھی 80 رنز کی فتح کے ساتھ سیریز بھی اپنے نام کرلی۔ مہمان ٹیم نے مسلسل چھٹی بار اعزاز حاصل کیا، مروجہ اصطلاح ''بینچ اسٹرنتھ'' کا سارا ملبہ ڈھرام سے نیچے آرہا، سینئر کرکٹرز کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے بدلے ہوئے تیور کی حامل ٹیم کے مقابل نوجوان ٹیم سے وابستہ توقعات کا تاج محل بھی زمین بوس ہوا۔

اس تجربہ کی اتنی شدت کے ساتھ وکالت کرنے والوں کو اپنے آپشنز اور فیصلہ پر سوچنا چاہیے، کرکٹ شائقین بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سلیکشن میں تجربات کا اس سے بدتر نتیجہ پہلے کبھی نہیں آیا۔

ایک سینئر کھلاڑی کا کہنا تھا کہ تین میچز کی سیریزآسٹریلیا کے نام کرکٹ بورڈ کی ناقص حکمت علی کا نتیجہ ہے۔ میچز میں شائقین کو تشنگی کے ساتھ ایک عجیب گمان بھی ہوا کہ ہمارے نوجوان شاہینوں کو شاید کچھ نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا یا وہ سر ے سے آسٹرلین پیس بولنگ اور بیٹنگ تکنیک کو سمجھ نہیں سکے۔ ایک سابق کوچ کی رائے تھی کہ پی سی ایل سے حاصل اعتماد کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، ہمارے اچھے بیٹسمین اور بولر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

اندازہ کیجیے 267 کا تعاقب کرنے والے گرین شرٹس 186پر آؤٹ ہوگئے،امام الحق سست روی سے کھیلتے ہوئے 46 رنز بنا پائے، جب کہ زمپا نے کیئر بیسٹ 4 وکٹیں اور کمنزنے 3 شکار کیے۔ادھر کینگروز نے 6 وکٹ پر 266 رنزبنائے۔

ایرون فنچ بدنصیب ثابت ہوئے ان کی کمند 90 پر ٹوٹی۔گلین میکسویل 71 پر رخصت ہوئے جب کہ پاکستان کا کوئی بولرایک سے زیاد وکٹ نہ لے سکا۔ اس سیریز میں سقوط جیسی صورتحال پر ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی دلبرداشتہ ہوئے، انھوں نے ایک موقع پر اپنی کہنی کرسی پر ماری۔

بعض ماہرین کرکٹ نے شکست در شکست کو غلطیوں اور موقع پرستی کا نام دیا، مثلا ایک کرکٹ مبصر کا کہنا تھا کہ محمد حسنین کا ڈیبیو شاندار تھا ،ان کی رفتار ، لائن اور لینتھ قابل دید تھی ان کو وکٹ لینی چاہیے تھی مگر امام الحق کے ڈراپ کیچ نے حسنین کو پہلی وکٹ سے محروم رکھا،اس وقت میکسول کا اسکور 27 تھا اور وہ اسے71 تک پہنچانے میں کامیاب رہے، یوں شارجہ میں انھیں وکٹ لینے کی حسرت رہی۔

ادھر سلیکشن کمیٹی کے فیصلوں پر تحفظات اور من مانیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، کرکٹرز اور منتظمین کے مطابق میرٹ کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔

اب بھی وقت ہے کہ کرکٹ ڈھانچہ کی تعمیر و تنظیم کے لیے ٹھوس انداز نظر سے کام لیا جائے، وزیراعظم عمران خان کا ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی کا ابتدائی فارمولہ مسترد کرنا چشم کشا ہے۔آیندہ ورلڈ کپ کے لیے مضبوط ٹیم کی تیاری ٹیسٹ کیس ہے۔

مقبول خبریں