اسٹیٹ بینک کی چشم کشا سہ ماہی رپورٹ

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی فرسٹریشن اور جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اسی بیروزگاری کا شاخسانہ ہیں۔


Editorial March 30, 2019
معیشت کو درست سمت پرگامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایک ٹاسک فورس تشکیل دے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی معاشی جائزہ رپورٹ میں جو سفارشات مرتب کی گئی ہیں ، وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔ سب سے پہلے تو رپورٹ میں توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افرادی قوت کی بہتری پر توجہ نہ دی گئی تو سی پیک منصوبوں سے پیدا ہونے والے روزگار کے وسیع مواقعے ضایع ہو جائیں گے۔

بلاشبہ سی پیک منصوبہ ہمارے لیے گیم چینجرکی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری اقدامات میں جوکمی ہے، اسے دورکرکے ہم وطن عزیز میں بے روزگاری کے خاتمے کی طرف بڑھ سکتے ہیں ۔

اب تک مکمل ہونے والے چینی منصوبوں میں پاکستانی مزدوروں کا تناسب پہلے ہی کم ہے، لہذا ملک میں انسانی سرمایے (ہیومن کیپیٹل) میں کمی بتائی جا رہی ہے اس فرق اورکمی کو دورکرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اوسط اور اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل افرادی قوت تیارکرنے پر اپنی توجہ مرکوزکرے۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کے 2018ء کے ایک سروے میں شامل دنیا کے157ممالک میں ہیومن کیپیٹل کے لحاظ سے پاکستان کا شمار 137ویں نمبر پرکیا گیا جو ہم عصر اور علاقائی ممالک میں سب سے پست ہے۔ تاہم اس عرصے کے دوران پاکستانی ورکرزکی پیداواری صلاحیت میں صرف 20 فیصد کا اضافہ ہوا جس میں ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے رجحان اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

یہ مندرجات چشم کشا ہیں۔ ہماری افرادی قوت کا ایک بہت بڑا حصہ بیرون ملک ہے،گوکہ وہ کثیر رقوم اپنے وطن بھیج کر ملکی معیشت کو استحکام دیتا ہے ، لیکن ہمیں ملک کے اندر نئے پیدا ہونے والے روزگارکے مواقعے سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لیے انسانی سرمائے کی غیر ہنرمندی کا سنجیدگی سے نوٹس لینا ہوگا۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہنرمند نوجوانوں کی ایک پوری نسل تیار کی جائے انھیں ووکیشنل ٹریننگ دی جائے،کیونکہ ای کامرس، مالیاتی ٹیکنالوجی، بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ اور ڈیجیٹل سے فائدہ اٹھا کر نوجوان نسل برسرروزگار ہوسکتی ہے ۔وطن عزیز میں لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان اعلیٰ ڈگریاں لیے در در نوکری کی تلاش میں پھرتے ہیں۔ بیروزگاری کے مسائل جہاں فردکو تباہ کرتے ہیں، وہیں ملک اور معاشرہ بھی تباہی کی جانب گامزن ہوجاتا ہے۔

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی فرسٹریشن اور جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اسی بیروزگاری کا شاخسانہ ہیں۔ جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ دوسری جانب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ماتحت ایشیا پیسفک گروپ کی پاکستان کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات کو ناکافی قرار دینے کی خبروں اور ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کے علاوہ سیمنٹ وبینکنگ سیکٹر میں فروخت کی شدت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مسلسل دو روزہ تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے ہمارے یہاں کیریئرکونسلنگ اورکیریئر پلاننگ دونوں کا فقدان ہے،کسی شعبے میں جابزکی کتنی کھپت اورگنجائش ہے، اس بارے میں کسی کوکچھ پتہ نہیں، ہمیں پلاننگ کر کے ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ کرنا ہے، ورنہ ہم ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔ معیشت کو درست سمت پرگامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایک ٹاسک فورس تشکیل دے جو معاشی معاملات کے لیے ترجیحات اور اس کے مندرجات طے کرے تاکہ سی پیک منصوبے کے نتیجے میں جو روزگار کے مواقعے پیدا ہوئے ہیں،ان سے کماحقہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔

مقبول خبریں