نقل مافیا کی فوری سرکوبی ہونی چاہیے

صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کوانتہائی سختی سے نقل کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔


Editorial April 03, 2019
صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کوانتہائی سختی سے نقل کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ فوٹو: فائل

کراچی سمیت سندھ بھرمیں میٹرک کے امتحانات کاآغاز ہوتے ہی دفعہ 144 کے نفاذ اور نقل کی روک تھام کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی۔ میڈیا میں جو واقعات رپورٹس ہوئے ہیں، اس کے بعد ہمارے تعلیمی نظام کے زمین بوس میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں ہے۔ طلبا دوران امتحان موبائل فون کا آزادانہ استعمال کرتے رہے اور ان کے پاس سے نقل کا مواد بھی برآمد ہوا۔

میٹرک کے امتحانات طلبا کے تعلیمی کیریئر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں،کیونکہ یہ ان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں لیکن مقام افسوس ہے کہ محنتی طلبا کے حق پر ڈاکہ نقل مافیا کے ذریعے ڈالا جا رہا ہے ۔

پہلے صرف پرچے آؤٹ ہوتے تھے، اب یہ بآسانی سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں۔ صرف کراچی میں 3 لاکھ 67 ہزار طلبا وطالبات امتحانات دے رہے ہیں، لیکن امتحانی مراکز کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ حیدرآباد میں پابندی کے باوجود امتحانات کے دوران طالب علم موبائل فون استعمال کرتے رہے۔

سکھر اورگھوٹکی میں انگلش کا پرچہ آؤٹ ہوگیا ،دادو میں نقل مافیا نے واٹس ایپ گروپ بنالیا جس میں تمام سوالوں کے جواب دستیاب ہیں۔کراچی میں چیئرمین میٹرک بورڈ ایک اسکول پر چھاپہ مارا، اس دوران کلاس رومز میں کوئی انویجیلٹر موجود ہی نہیں تھا۔ اس خستہ حال اسکول میں پنکھا تو دور لائٹ تک موجود نہیں تھی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سکھر ریجن میں جاری میٹرک کے امتحانات میں طلبا کی جانب سے نقل کرنے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے سکھرتعلیمی بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کو معطل کردیا ہے ۔کیونکہ کھلے عام نقل کے واقعات امتحانی پیپرز آؤٹ ہونے کی رپورٹ صوبائی وزیرتعلیم نے خود وزیراعلیٰ کو دی تھی۔ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کوانتہائی سختی سے نقل کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

مقبول خبریں