بھارت کے خطرناک عزائم

دونوں ممالک کے درمیان بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک پہنچ سکتی ہے


Editorial April 07, 2019
دونوں ممالک کے درمیان بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک پہنچ سکتی ہے۔ فوٹو : فائل

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارت پاکستان پر ایک اور حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے،یہ کارروائی 16 سے 20 اپریل کے درمیان کی جاسکتی ہے۔ ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگادیا ہے، جنگ کے بادل اب بھی منڈلا رہے ہیں، ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں ایک اور حملے کا منصوبہ بنارہا ہے، بھارت بہانے کے طور پر مقبوضہ کشمیر میں پلواما جیسا واقعہ بھی کراسکتا ہے، خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو خطے پر اس کے کیا اثرات پڑسکتے ہیں، اندازہ لگا سکتے ہیں۔

خطے میں امن کے لیے عالمی برادری کو خاموش نہیں رہناچاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے اپنی اس تشویش اور صورتحال کی سنگینی سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو آگاہ کیا ہے، عالمی برادری بھارت کے اس غیرذمے دارانہ رویے کا نوٹس لے، خطے میں امن کے لیے عالمی برادری کو خاموش نہیں رہناچاہیے، پلوامہ واقعے کے بعد 26 فروری کو بھارت جب کارروائی کرتا ہے اس پر دنیا خاموش رہتی ہے، کئی ذمے دارممالک سمیت دنیا نے خاموشی اختیار کررکھی ہے تاہم ہم اتنے بھی ناسمجھ نہیں کہ عالمی براداری خاموش کیوں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ممکنہ بھارتی جارحیت کے بارے میں جس خوفناک صورتحال کا انکشاف کیا ہے ،اس کے ایسا رونما ہونے کی صورت میں پورے خطے کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے،بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس اور ٹارگٹڈ حملوں کی دھمکیاں ایک خوفناک جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ 26فروری کے بعد 27فروری کو بھارتی طیاروں نے ایک بار پھر پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تو پاکستان نے اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک کا ملبہ پاکستان میں گرا اور اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا' بعدازاں پاکستان نے خیرسگالی اور خطے کے امن کو برقرار رکھنے کی خاطر گرفتار پائلٹ ابھی نندن کو غیرمشروط طور پر بھارت کے حوالے کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا اور عالمی رائے عامہ پاکستان کے حق میں ہو گئی۔

چند روز کے بعد صورت حال میں بہتری آنے لگی اور یوں محسوس ہونے لگا کہ بھارتی جارحیت کے بعد خطے پر جنگ کے جو بادل چھا گئے تھے وہ چھٹنے لگے ہیں اور دونوں ممالک اب اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن بھارت کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا جس سے بہتری کی امید بندھتی۔ بھارت نے پاکستان کو پریشان کرنے کے لیے کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کے بار بار انتباہ کے باوجود اس میں کمی نہیں کی۔ اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 16 سے 20اپریل تک بھارتی جارحیت کے جس خطرے کی نشاندہی کی ہے اس سے پورے خطے کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگ سکتا ہے اور اگر بھارت واقعی سرجیکل اسٹرائیکس کی آڑ میں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پاکستان بھارت کے اس جارحانہ رویے پر قطعی خاموش نہیں رہے گا اور اسے بھرپور جواب دے گا۔ خدانخواستہ ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک پہنچ سکتی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کر رہے ہیں' پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور جنگی فضا قائم کرنا بھی ان کے انتخابی ایجنڈے کا ایک حصہ ہے۔ حیرت انگیز اور افسوناک امر یہ ہے کہ نریندر مودی اپنی پانچ سالہ کارکردگی پر الیکشن لڑنے کے بجائے خطے میں جنگی ماحول پیدا کر کے الیکشن جیتنے کا نامناسب اور غیر ذمے دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت پر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ہم اپنے ملک کے دفاع کا بھرپور حق رکھتے ہیں' ہم نہیں چاہتے کہ بھارت کی جانب سے ایسی حماقت دوبارہ دہرائی جائے' پاکستان کل بھی امن کا داعی تھا اور آج بھی ہے' اس نے رواں ماہ 360بھارتی قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت کی جانب سے جب ایل او سی کو عبور کرتے ہوئے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے باوجود پوری دنیا خاموش رہی' جو ایک خطرناک رجحان کی غمازی کرتا ہے۔ اگر عالمی برادری بھارتی جارحیت کا فوری نوٹس لیتی اور اقوام متحدہ نے اس کے خلاف قرار داد مذمت پیش کی ہوتی تو اس سے یقیناً بھارت پر دباؤ پڑتا اور وہ مستقبل میں کسی قسم کی جارحیت سے گریز کرتا۔ عالمی برادری کی اس خاموشی ہی سے اسے شہ ملی۔عالمی برادری کو پاکستان کے خدشات کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے اور بھارت سے جواب طلب کیا جانا چاہیے۔امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان کا جنوبی ایشیا کی سنگین صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے تاکہ بھارت کسی ممکنہ مہم جوئی سے باز رہے۔ ادھر پاکستان کو بھارت کی تمام سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہوئے ، اپنی دفاعی تیاریاں مکمل رکھنی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔

مقبول خبریں