لیبیا کی تشویشناک صورتحال عالمی برادری نوٹس لے

لیبیا ماضی قریب میں خطے کا انتہائی خوشحال ترین ملک تھا، تارکین وطن بہتر روزگار کے حصول کے لیے لیبیا کا رخ کرتے تھے۔


Editorial April 09, 2019
لیبیا ماضی قریب میں خطے کا انتہائی خوشحال ترین ملک تھا، تارکین وطن بہتر روزگار کے حصول کے لیے لیبیا کا رخ کرتے تھے۔ فوٹو: فائل

QUETTA: لیبیا میں پھر سے خانہ جنگی شروع ہوگئی ہے، اقوام متحدہ اورعالمی قوتوں نے لیبیا میں مسلح دستوں کے دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ یہ خبر انتہائی تشویش ناک ہے ،کیونکہ خانہ جنگی کسی بھی ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتی ہے، اموات، بھوک ، افلاس، بیماری جیسے دردناک انسانی المیے جنم لیتے ہیں ۔ حالیہ بد امنی اس پس منظر میں پیدا ہوئی جب اقوام متحدہ کی لیبیا سے متعلق ایک کانفرنس ہونے جا رہی ہے جس میں ملک میں ممکنہ نئے انتخابات سے متعلق فیصلہ ہونا ہے۔

لیبیا ماضی قریب میں خطے کا انتہائی خوشحال ترین ملک تھا، تارکین وطن بہتر روزگار کے حصول کے لیے لیبیا کا رخ کرتے تھے۔ یادش بخیر لیبیا اورکرنل معمر قذافی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے،کیونکہ عوام کو ریاست کی طرف پانی ، بجلی ، سوئی گیس مفت اور رہائش اورکارکی خریداری کے لیے بھی سہولتیں میسر تھیں بلکہ تیل سے حاصل ہونے والی قومی آمدنی میں سے ایک معقول رقم ماہانہ ملک کے ہرفرد کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی تھی یہ وہ اقدامات تھے جو ریاست کو ماں جیسا ہونے کا رتبہ بخشتے ہیں لیکن کرنل معمر قذافی کی پہلے معزولی اور پھر قتل کے بعد ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا ۔

تازہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی حامی فوجوں اور باغیوں کے درمیان طرابلس کے قریب جھڑپیں جاری ہیں، باغیوں نے طرابلس کے جنوبی علاقے پر شدید بمباری کی ہے۔ تین روز قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا تھا کہ انھیں جمعے کو مشرقی کمانڈر سے ملاقات کے موقعے پر بے حد تشویش لاحق ہوگئی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی فوجوں کو طرابلس کی طرف مارچ کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ خانہ جنگی میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور بالکل ایسا ہی ہوا ہے گوکہ اقوام متحدہ نے اپیل کی ہے کہ متحارب جنگجو گروہ مجوزہ فائر بندی پر عملدرآمد کریں تاکہ وہاں پھنسے زخمیوں اور شہریوں کو نکالا جا سکے، لیکن صرف اپیلیں کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکا اور مغربی ممالک اس ملک میں امن قائم کرنے کے لیے کوئی کردار نہیں کر رہے ہیں ، ماضی کا خوشحال اور امیر ترین ملک اب کھنڈر بن رہا ہے اور اب یہ ملک قبائلی دشمنیوں کی لپیٹ میں آگیا ہے اور خانہ جنگی جانے کب تک جاری رہے یہ وہ سوال ہے جس کا جواب لیبیا کے باشندوں کو تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہیں ۔عالمی قوتوں کا فرض ہے کہ وہ جنگ کے الاؤکو سرد کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

 

مقبول خبریں