معاشی آسودگی ایک خواب کی تعبیر

وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت استحکام کی طرف جارہی ہے، زرمبادلہ جس تیزی سے باہر جارہا تھا اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔


Editorial April 10, 2019
وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت استحکام کی طرف جارہی ہے، زرمبادلہ جس تیزی سے باہر جارہا تھا اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

پیرکو یہاں وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے امید دلائی ہے کہ ملکی معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر وارڈ میں شفٹ کردیا گیا ہے، ملک سے معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی ہے، اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں جو ڈیڑھ سال تک رہے گا، اقتصادی فریم ورک پرعمل درآمد کے نتیجے میں 2022 اور 2023 میں اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ 15سال کی بلند ترین سطح پر ہوگی جب کہ شرح تبادلہ کا پائیدار نظام قائم ہوگا، غربت اور قرضوں میں کمی آئیگی جب کہ40 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف بھی حاصل کیا جائے گا۔

یہ غالباً وہی دلفریب روڈ میپ ہے جس کی ضرورت پر اپوزیشن جماعتیں، میڈیا اور ماہرین اقتصادیات شد ومد سے بحثیں کررہے تھے۔دیر آید درست آید کے مصداق اب حکومت کے پاس واحد صائب آپشن ملکی معیشت کو منجدھار سے نکال کر ساحل مراد پر لانا اورٹھوس معاشی فیصلوں اوراقتصادی فریم ورک پر اس کی روح اور الفاظ کی روشنی میں عمل کرنا ہے۔

وزیر خزانہ کو قومی توقعات ،امنگوں اور ملنے والے ریلیف کے انتظار کا دوسروں سے زیادہ ادراک واحساس ہوگا اس لیے حکومت اور اپوزیشن وقت کی معاشی نزاکتوں کے پیش نظر پوائنٹ اسکورنگ کو ترک کرکے میثاق معیشت والی اسپرٹ کے ساتھ اقتصادی بریک تھرو ہونا چاہیے چونکہ وقت کم مقابلہ سخت ہے۔اس وقت ضرورت معیشت کی پیچدہ صورتحال، عشروں پر محیط اقتصادی اور مالیاتی مس منیجمنٹ کی تفصیلات میں جانے کی نہیں، وزیراعظم عمران خان نے ملکی معیشت کا جو وژن دیا ہے اس پر عملدرآمد کے لیے نیک نیتی سے کام شروع ہونا چاہیے۔

معیشت کے بحران یا عوام کو درپیش معاشی مشکلات سے کوئی جمہوری حکومت دامن بچا نہیں سکتی اور کسی بھی حکومت کو مجبور عوام زیادہ گریس پیریڈ نہیں دیتے ، ایک حد تک عام آدمی بنیادی سہولتوں، جمہوری ثمرات اور مراعات سے محرومی سہہ سکتا ہے مگر لازم ہے کہ اقتصادی فریم ورک عوام کی خواہشات سے جلد ہم آہنگ ہو۔ شہریوں کے وسوسے دور ہوں۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف حکومت کو بجلی اور گیس مہنگی کرنے کا کہا ہے اور حکومت کو بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنا پڑیں گی۔ انھوں نے کہا مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے والا ہے۔

حکومت نے عوام کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے جب کہ اعداد و شمار کچھ اور کہانی بتارہے ہیں ، ادھر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں بے پناہ مہنگائی سے عوام پریشان ہیں شدید مالی بحران پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہے مگر حالات بہتر ہونے میں عوام کو 6 سے 7 سال تک صبر کرنا ہو گا۔ بے یقینی بھی ختم ہونی چاہیے۔ بلاشبہ حکومتی معاشی ٹیم کو اعصاب شکن چیلنجز درپیش ہیں، مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ، غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول کارے دارد ہے جب کہ معیشت سے متعلق افواہوں ،حکومتی دعوئوں اور وزرا کے متضاد بیانات نے حقیقت اور خرافات کو گڈ مڈ کردیا ہے۔

لہٰذا جتنی جلد ''مریض ِمعیشت'' صحت یاب ہو اتنا ہی بہتر ہے، تاہم عوامی حلقوں اور اپوزیشن کے اس استدلال پر حکمراں سنجیدگی سے غور کریں کہ جب بحران ختم ہوچکا، پانچ سال میں معیشت مستحکم ہوگی ، ساری مشکلیں آسان ہوں گی، ملازمتوں کی بارش برسے گی ، ریڑھی اور چھابڑی والا کہے کا آئو مجھ سے ٹیکس لے لو ،حالات ایک دو ہفتہ میں بدل جائیں گے، لوگ آسودہ ہوجائیں گے، اگر واقعی ایسا دل خوش کن منظر نامہ ممکن ہے تو حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کو کیوں بے تاب ہے؟ valid سوال ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق ملکی معیشت استحکام کی طرف جارہی ہے، زرمبادلہ جس تیزی سے باہر جارہا تھا اس پر قابو پا لیا گیا ہے، انشااللہ 2 سال میں پاکستان اقتصادی استحکام کی منزل حاصل کر لے گا۔

یہ افسوسناک صورت حال ہے کہ ہم سود کی ادائیگی کے لیے قرضے لے رہے ہیں، 800 ارب روپے سے زائدکے قرضے سود کی ادائیگی کے لیے لیے گئے، درآمدات اور برآمدات میں بھی گہری خلیج ہے،گزشتہ سال برآمدات ملکی معیشت کی شرح سے 8 فیصد تھی، چند سال قبل یہ ساڑھے13فیصدکی شرح سے تھی، ہم ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں، اس وقت بنگلہ دیش، بھارت اور ترکی کی برآمدات ملکی معیشت کے حساب سے 15، 19اور 25 فیصد کی شرح سے ہیں۔

ریونیو میں اضافے کے لیے ٹیکس کا نظام سہل اور آسان بنانا ہوگا، آنے والے بجٹ میں ٹیکس کا سادہ ترین نظام دیںگے جس سے لوگوںکو آسانیاں ہوںگی۔ بہرحال ملک کی بہتری اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے مثبت پالیسی پیش رفت ہی مناسب ہے۔ عوام معاشی تبدیلی کو محسوس کریں ۔ یہی حکومت کا اصل امتحان ہے۔

مقبول خبریں