تعلیم کی فراہمی میں ریاستی کردار

طبقاتی تعلیم نے قومی شعور اور علمی بیداری کی راہ میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کردیے۔


Editorial April 11, 2019
طبقاتی تعلیم نے قومی شعور اور علمی بیداری کی راہ میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کردیے۔ فوٹو : فائل

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ریاست تعلیم کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، وہ خود لوگوں کو نجی اسکولز میں داخلوں پر مجبور کرتی ہے اور دوسری طرف نجی اسکولز کو بھی فیس کے معاملہ پر پابند رکھنا چاہتی ہے جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریاست کی ناکامی سے پیدا ہونے والا خلا نجی اسکولز پورا کر رہے ہیں مگر ان کو مادر پدر آزادی بھی نہیں دے سکتے، چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے لاہور اور سندھ ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں ہیں،دونوں صوبوں میں الگ الگ قوانین رائج ہیں اور انھوں نے متعلقہ قوانین کے تحت فیصلے کیے۔ سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ سے متعلق کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے کیے گئے اقدامات پر مبنی رپورٹ طلب کرلی۔

سپریم کورٹ نے بلاشبہ ریاست اور تعلیم کے مابین رشتہ کی اہمیت پر بے حد فصیح انداز نظر کا اظہار کیا ہے جب کہ تعلیم کی فراہمی ، فروغ ، معیار اور بھاری اسکول فیسوں کے مسئلہ پر عدالت عظمی کے ریمارکس چشم کشا اور مادر علمی کے گمشدہ تقدس کی بحالی کی ایک صدائے دل فگار ہے جو ارباب علم وتدریس کے لیے ویک اپ کال کا درجہ رکھتی ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے عدالتوں میں غیر معمولی اسکول فیسوں کے کیسز زیر سماعت ہیں، اس مسئلہ پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے صورتحال کا از خود نوٹس لیا تھا اور انھوں نے سندھ میں نجی اسکولوں کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ تعلیمی اقدار کا احساس کریں ، غریب و متوسط طبقہ کے طالبہ و طالبات کی فیسوں میں کٹوتی کریں تاکہ ہر بچہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو۔

والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ سندھ ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے سے والدین مطمئن ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ والدین مطمئن ہیں تو آپ عدالت میں کیا کر رہے ہیں؟ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ماضی میں سرمایہ کار بورڈ کی پابندیوں سے صنعتوں کی ترقی رکی، پابندیوں سے ہمیشہ ترقی رکنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کیا اسکول فیس مقرر کرنے کے لیے رولز موجود ہیں؟ کیا فیس کا تعین کرنے والی کمیٹی سہولیات کا بھی جائزہ لیتی ہے؟

فیصل صدیقی نے جواب دیاکہ فیس کے تعین کے لیے باضابطہ رولز موجود نہیں تاہم سندھ کے رولز میں5 فیصد تک فیس بڑھانے کی اجازت ہے لیکن یہ اضافہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہے۔ سماعت کے دوران دلائل اور ججز کے ریمارکس سے جس بنیادی نکتہ کی عدلیہ نے نشاندہی کی وہ تعلیم کی فراہمی میں ریاست کا کردار ہے۔

یوں بھی مادر علمی کی تہذیبی اور فکری جہتوں اور ریاست کے ''سائبان'' اور ''ماں'' کے تصور کو اجاگر کیا جائے تو حقیقت میں ریاست کو اس ماں پر بھی فوقیت حاصل ہوگی جو صبح سویرے اپنے بیٹے یا بیٹی کو اسکول جانے کے لیے تیار کرتی ہے، ان کی گراں فیسوں کا ہر قیمت پر انتظام کرتی ہے چاہے اس عمل میں اسے مالی طور پر زیر بار ہی کیوں نہ ہونا پڑے مگر عدالت عظمیٰ کا فراہمی تعلیم میں ریاستی کردار کی ناکامی کا اعتراف ایک غفلت شکن چنگھاڑ سے کم نہیں۔ اسی سیاق و سباق میں چیف جسٹس نے کہاکہ رولز میں واضح نہیں اضافہ سال میں کتنی بار ہو سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ اسکولز کسی نہ کسی مد میں فیس بڑھاتے ہی رہتے ہیں، کبھی کلب، کبھی ڈیبیٹ سوسائٹی کے نام پر فیس لی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قواعد کالعدم قرار دینے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کیسے بحال کر سکتی ہے، انھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 18 کاروبار اور تجارت کی بات کرتا ہے،کیا اسکولنگ تجارت یا کاروبار ہے؟

سمجھنا ہے تعلیم تجارت میں آتی ہے کہ کاروبار میں، نجی اسکولز کے ساتھ حکومت سے بھی پوچھیں گے وہ کیا کر رہی ہے، پہلے گلی محلوں میں سرکاری تعلیمی ادارے ہوتے تھے اب وہ پرائمری اسکول بھی نظر نہیں آتے، سرکاری اسکول اور ان کا پہلے والا معیار آخر کہاں گیا؟ بھاری فیس ادا نہ کر سکنے والا ٹیلنٹ ضایع ہو رہا ہے۔

حکومت ہر مدرسے کے ساتھ سرکاری اسکول تعمیر کرے، سرکاری اسکول میں مفت کتابیں ، یونیفارم اور دودھ کا گلاس دیا جائے اورمفت سہولیات دیکر فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے کہ اسکول جانا چاہتے ہیں یا مدارس ۔ حقیقت یہ ہے کہ طبقاتی تعلیم نے قومی شعور اور علمی بیداری کی راہ میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کردیے ، اسکولوں کی تقسیم بھی امیر وغریب کی تفریق سے آلودہ ہوگئی، وقت آگیا ہے کہ نظام تعلیم کی تطہیر اور نجی اسکولوں کی گراں بار فیسوں کے معاملات پر عدلیہ کے استفسارات پر ارباب بست وکشاد سنجیدگی سے غور کریں۔ یہ معماران قوم کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

مقبول خبریں