روانڈا میں ہونے والا قتل عام اور اس کا سبق

انسانی قتل عام کے اس قدر وحشتناک مناظر دیکھنے والوں کے ذہن پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کی کہانی مختلف ہے۔


Editorial April 12, 2019
انسانی قتل عام کے اس قدر وحشتناک مناظر دیکھنے والوں کے ذہن پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کی کہانی مختلف ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

حالیہ زمانے میں دنیا کا سب سے بڑا قتل عام افریقہ کے ملک روانڈا میں ہوا جس کو اب 25 سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ یہ قتل عام چار ماہ تک جاری رہا جس میں روانڈا کے ہوتو اکثریتی قبیلے نے اقلیتی قبیلے تتسی کے لوگوں کا قتل عام کیا۔ روانڈا میں ہونے والے اس قتل عام میں 80 ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

اس وحشیانہ قتل عام کے دوران عورتوں کی بے حرمتی بھی کی گئی، نسلی منافرت نے وہ آگ بھڑکائی کہ صدیوں سے ساتھ رہنے والے پڑوسی اپنے پڑوسیوں کے خون اور عزت و آبرو کے پیاسے ہو گئے حالانکہ ان میں گہری دوستیاں بھی قائم تھیں۔ لیکن حالات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ دلوں میں ایک عرصے سے دشمنی، نفرتیں اور عداوتیں بھی پرورش پا رہی تھیں۔ کچھ عناصر اپنے مفادات کے لیے نفرت پھیلانے میں مصروف تھے۔ خانہ جنگی سے قبل انتہاپسند عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے فضا ہموار کرنے کی خاطر وحشیانہ قسم کا پراپیگنڈا شروع کر دیا گیا ۔

اس صورت حال میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب روانڈا نے آزادی حاصل کر لی تو تتسیوں کو غدار قرار دے دیا گیا۔ ہوتو صدر جووینل حابیاریمانہ کے قتل کے بعد باغیوں نے آزادانہ طور پر ملک میں گھومنا اور کمزور لوگوں کے قتل عام کا بازار گرم کرنا شروع کر دیا۔

روایت کے مطابق کم از کم ایک سو دن تک مسلسل قتل و غارت جاری رہی۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ بڑھتا رہا لیکن دوسری طرف بین الاقوامی کمیونٹی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کئی افراد کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا ۔جب کہ زیادہ تر کو گولیاں مار دی گئی۔ بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے جسمانی اعضا کاٹ دیے گئے تاکہ ان کی موت اس قدر تکلیف دہ اور اذیت ناک ہو سکے اور وہ سسک سسک کر موت سے ہمکنار ہوں۔

انسانی قتل عام کے اس قدر وحشتناک مناظر دیکھنے والوں کے ذہن پر جو اثرات مرتب ہوئے ان کی کہانی مختلف ہے اور وہ اس ذہنی اذیت سے کس طرح باہر نکلے یہ الگ کہانی ہے لیکن ایک طرف اس قدر ظلم و ستم جاری تھا دوسری طرف روانڈا معاشی اور معاشرتی طور پر ترقی کی دوڑ میں شامل تھا جس کے مثبت نتائج بھی نظر آ رہے تھے۔ قتل عام کے جہاں جسمانی نتائج تھے وہاں ذہنی نتائج اس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک تھے۔

انٹرنیشنل کمیونٹی کو روانڈا میں ہونے والے قتل عام کو کسی صورت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے بالخصوص ایسی اقلیت جس کے خلاف کارروائیاں کرنا آسان ہو، ان کے تحفظ کے لیے کوئی چارٹر بنایا جانا چاہیے تاکہ کمزور ممالک اور نسلی اور مذہبی اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

مقبول خبریں