جب موت مجھے چُھو کر گزری اداکار قوی خان کی زندگی کے یادگار واقعات

محمد قوی خان کا شمار چوٹی کے پاکستانی اداکاروں میں ہوتا ہے۔


ایکسپریس July 06, 2012
محمد قوی خان کا شمار چوٹی کے پاکستانی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ فوٹو ایکسپریس

محمد قوی خان کا شمار چوٹی کے پاکستانی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے قوی خان کو اداکاری کا شوق لاہور لے آیا۔ شوبز میں کام یابیوں کا دائرہ وسیع ہونے لگا تو فن کی محبت میں اس اداکار نے بینک کی پکی نوکری چھوڑ دی اور خود کو پورے طورپرشوبز کے لیے وقف کردیا۔ محمد قوی خان کو ان کی خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا اور اب حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ محمد قوی خان نے ہمارے سلسلے ''بھلا نہ سکے'' کے لیے جو دو واقعات بیان کیے، ان میں سے ایک میں بچپن میں موت سے ان کے روبرو ہونے کا بیان ہے اور دوسرے واقعے میں وہ ایسی ہی صورت حال کا جوانی میں سامنا ہونے کی بابت وہ بتارہے ہیں:

میری عمر اس وقت سات آٹھ برس رہی ہوگی، جب مجھے موت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ پشاور میں ایک روز میں نہر میں نہاتے ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ پانی کا بہائو مجھے پل کے نیچے لے جانے کو تھا، جہاں پہنچ جاتا تو بچنے کی جو تھوڑی بہت اُمید تھی وہ بھی جاتی رہتی۔ اس گھبراہٹ کے عالم میں بہت ہاتھ پیر مارے، لیکن سب بے سود۔ ایسے میں میرے بڑے بھائی، جو نہر میں نہا رہے تھے ، ان کی ا چانک مجھ پر نظر پڑی اور انہیں میری حالت کا اندازہ ہوگیا۔ وہ تیرنا خوب جانتے تھے، اس لیے، بڑی تگ ودو کے بعد مجھے کنارے پر لے آئے۔

میں اس وقت شدید گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں موت کا سامنا کرنے کا یہ تجربہ بہت خوف ناک اور دل دہلا دینے والا تھا۔ اس واقعے نے مجھ پر ایسا لرزہ طاری کیا کہ میں بعد میں نہر میں نہانے کے خیال سے باز ہی رہا۔ جس زمانے میں پی ٹی وی پر ''اندھیرا اجالا'' چل رہا تھا ، مجھے بچوں کے ایک فنکشن میں شرکت کی غرض سے فیصل آباد جانا پڑا۔ راستے میں مغرب کا وقت ہوگیا، تو مجھے نماز کی ادائیگی کا خیال آیا۔ ایک پیٹرول پمپ کے ساتھ مسجد دیکھ کر میں نے ادھر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا۔

اس اثنا میں ایک برق رفتار بھاری گاڑی بے قابو ہوکر میری گاڑی سے آٹکرائی، جس سے میری گاڑی، جسے میں خود چلا رہا تھا، گھوم گئی اور اس کا برا حال ہوگیا اور انجن جام ہوگیا۔ حادثے کے باعث لوگ وہاں فوراً جمع ہوگئے۔ مجھے انہوں نے پہچان لیا اور بڑی مشکل سے گاڑی سے باہر نکالا۔ میں زخموں سے چُور چُور، اس سوچ میں تھا کہ اس شدید تصادم کے باوجود زندہ سلامت کیسے بچ گیا ہوں۔ علاج معالجے کے لیے مجھے اسپتال لے جایا گیا اور میری مرہم پٹی کی گئی۔ اسی حالت میں اگلے روز میں اس تقریب میں شریک ہوا، جس کے لیے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ سب میرے اللہ کا کرم ہے کہ میں بچ گیا۔ اس لمحے بھی میں نے اﷲ کو یاد کیا۔ دین کو میں خود سے کبھی جدا نہیں کرتا۔ گھر سے قدم باہر رکھتے وقت میں خود کو اﷲ کے حوالے ضرور کرتا ہوں، اس سے ایک تحفظ کا احساس آپ کو رہتا ہے۔ زندگی میں بہت زیادہ مشکلات رہیں، جن کا مقابلہ کرنے کے قابل اس لیے ہوا کہ خالق حقیقی سے اپنا رابطہ قائم رکھا۔ یہ دونوں واقعات ایسے ہیں ، جن کی یاد میرے ذہن میں ہمیشہ رہی اور میں انہیں کبھی بھلا نہ پایا۔