امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے چھٹے دور کا آغاز

مذاکرات کا ایجنڈا افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور طالبان کی جانب سے امن کی ضمانت ہے


ویب ڈیسک May 01, 2019
طالبان کو کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔ فوٹو : فائل

التوا کے شکار افغان امن مذاکرات کا ایک بار پھر سے قطر میں آغاز ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان افغان امن مذاکرات کا نیا دور آج سے دوحہ میں شروع ہو رہا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد طالبان نمائندوں سے مذاکرات کریں گے، امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا یہ چھٹا دور ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے عالمی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مذاکرات کا محور افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور اس کے عوض طالبان کی جانب سے امریکا کو امن کی ضمانت ہوگا۔

زلمے خلیل زاد پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایسا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا ہے جس میں طالبان افغان سرزمین کو دوسرے ممالک بالخصوص امریکا میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے اور افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بننے کی ضمانت دیں گے۔

ادھر زلمے خلیل زاد کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آج سے شروع ہونے والے مذاکرات میں طالبان نمائندوں کو کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں افغان طالبان کابل حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے گریز کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں