عدلیہ حکومت نہیں چلا سکتی غلط اقدامات درست کرسکتی ہے عبدالحفیظ پیرزادہ

عوام کاعدالت سے رجوع کرنا اعتمادکااظہارہے،جسٹس مشیرعالم،آئین کی تعلیم لازمی قرار،جسٹس مقبول باقرودیگر


Numainda Express August 27, 2012
عوام کاعدالت سے رجوع کرنا اعتماد کا اظہارہے، جسٹس مشیر عالم،آئین کی تعلیم کونصاب میںلازمی قراردیا جائے،جسٹس مقبول باقرودیگر. فوٹو فائل

WASHINGTON: ملک کے ممتازماہر قانون و آئین عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا ہے کہ عدلیہ حکومت نہیں چلاسکتی مگر عدلیہ حکومت کی جانب سے کیے گئے غلط اقدامات کو درست کرسکتی ہے،18ویں ترمیم سمیت آئین میںکی گئی تمام ترامیم غیرآئینی ہیںکیونکہ عوام نے اسمبلیوںکو ترمیم کیلیے ووٹ نہیں دیا۔ وہ سکھرہائیکورٹ بار کی جانب سے منعقدہ لا کانفرنس میں ریسرچ پیپر پڑھ رہے تھے۔

لا کانفرنس کی کارروائی نامور قانون دان نثار احمد بھنبھرو نے چلائی۔ اس موقع پر عبدالحفیظ پیر زادہ نے مزیدکہاکہ وہ 18ویں ترمیم کو اس لیے غیر آئینی کہہ رہے ہیں کہ آئین کے مطابق وہ اسمبلی ترمیم کرسکتی ہے جسے عوام نے آئین میں ترمیم کیلیے ووٹ دیا ہو مگر1970کے بعد ملک میں جو بھی اسمبلی وجود میں آئی کسی کوبھی عوام نے آئین میں ترمیم کا ووٹ نہیں دیا۔ انھوں نے مزید کہاکہ عدلیہ کا کام آئین کے دائرے میںرہ کر فیصلے کرنا ہے، عدلیہ کوئی بھی قانون نہیں بناسکتی نہ ہی کسی قانون کو توڑ سکتی ہے، عدلیہ صرف اس قانون کو ختم کرسکتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا آئین سے متصادم ہو۔

انھوں نے کہاکہ نصرت بھٹو کیس میں عدلیہ نے ضیاء الحق کے غیر قانونی اقدام کو توسیع دیکر غلط کیا، اسی طرح عدلیہ پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدام کو بھی درست قرار دیکر غلط کام کیا، عدلیہ اپنا اصل کام نہیں کررہی، جس کی وجہ سے صوبائیت کو فروغ مل رہا ہے، صوبے پانی، بجلی و فنانس کے مسئلے پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، اس لیے سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 184کے تحت صوبوں میں پیدا ہونیوالے مسائل اور نفرتوں کو کم کرنے کیلیے از خود نوٹس لے، عدلیہ کو سیاسی معاملات میں توجہ کم دینی چاہیے، عدلیہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے، انسانی حقوق کیلیے حکومت کے کیے جانیوالے غیر قانونی اقدامات کیخلاف مقدمات کو ترجیح دے۔

انھوں نے کہاکہ کسی بھی جج پر تعصب کا الزام لگے تو انصاف کی بہتری کیلیے اس جج کو دستبردار ہوجانا چاہیے، 18ویں ترمیم میں صوبوں کو خود مختاری دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ صوبے خود مختار ہونے چاہییں مگر وہ ترمیم غیر آئینی ہے، اس لیے وفاق ان پر عمل نہیں کررہا، اگر صوبے معاشی طور پر خود مختار ہیں تو پھر سندھ حکومت کے پاس خزانے میں ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلیے پیسے کیوں نہیں ہیں، اس بات کو کس طرح درست تسلیم کیا جائے کہ وفاق نے صوبوں کو مالی طور پر خود مختار کردیا ہے، انھوں نے کہاکہ زندگی اور موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، کچھ وقت کے بعد عبدالحفیظ پیر زادہ کی سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے باہر قبر ہوگی اور یہ سب کچھ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے ساتھ بھی ہونا ہے، اس لیے اعلیٰ عدلیہ کے جج دل میں خدا کا خوف رکھ کر انصاف پسندی والے فیصلے کریں۔

انھوں نے کہاکہ ملک میں گڈ گورننس تو دور کی بات ہے یہاں تو گورننس ہی نظر نہیں آرہی، مسائل کو حل کرنا عدلیہ کا کام نہیں، ان مسائل کو عوام کے ووٹ کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے، انھوں نے کہاکہ ملک میں انصاف کی فراہمی ممکن ہوجائے تو حکومتی ادارے خود بخود درستگی کی جانب چل پڑینگے۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ عدلیہ بغیرکسی خوف اورلالچ کے فیصلے دے رہی ہے،انصاف آئین و قانون کونظر میں رکھ کر فیصلے ہورہے ہیں، عوام کا عدالت سے رجوع کرنا عدالتوں پر اعتماد کا اظہار ہے، وکلا تنظیمیں ووٹر پیدا کرنے کے بجائے اچھے وکیل پیدا کریں کیونکہ اچھے وکیل ہی کل اچھے جج ہوسکتے ہیں۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل سینئرڈاکٹر فرخ نسیم نے کہا کہ جوڈیشری آزاد ہے اور آزاد فیصلے دے رہی ہے، ملک میں گڈ گورننس لانے کیلیے جوڈیشری کو اہم کردار ادا کرنا پڑیگا، عدالتوں میں ججوں کی کمی کو پورا کیاجائے کیونکہ ججوں کی کمی انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ہے، عوام میں اعتماد میں بڑھا ہے، وہ اب اپنے مسائل حکومت کی جانب لے جانے کے بجائے عدالتوں میں لیکر آرہے ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل ہائی کورٹ جج انور منصور نے کہا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ کی موجودگی میں ناانصافی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، عدلیہ کوسیاست سے دور رہنا ہوگا، جج نہیں انکے فیصلے بولتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آئین اور انسانی حقوق کی تعلیم کو سیکنڈری کے نصاب میں لازمی قرار دیا جائے، لا کالجز کی دوبارہ تشکیل نو کی جائے، وہاں پرتجربہ کار اور ہوشیار استاد تعینات کیے جائیں کیونکہ قانونی تعلیم کا معیار زوال پزیر ہوتا جارہا ہے، ایسی صورتحال میں وکلا کے بارز کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔