سینٹرل جیل حیدرآباد توڑنے کی پھر دھمکیاں پولیس الرٹ ملازمین کی چھٹیاں منسوخ

بنوں جیل کی طرز پر حملے کی دھمکیاں ملی ہیں، زیادہ خطرہ بس اسٹینڈ کی سمت سے ہے، پولیس سے مدد مانگ لی، ڈی آئی جی


Numainda Express August 29, 2012
کراچی میں امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کے باعث غیرملکی خریداروں کی آمد بند ہو چکی ہے،عبدالرشید فوڈر والا۔ فوٹو: فائل

عید الاضحی کی آمد سے پہلے ایک بار پھر گزشتہ سال کی طرح حیدرآباد سینٹرل جیل کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے جیل کی انتظامیہ نے ضلعی پولیس سے مدد مانگ لی۔ جیل کے گرد سیکیورٹی سخت کر دی گئی،جیل کے اطراف سخت سیکیورٹی اور وہاں سے بسیں ہٹانے کے مطالبے کو بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے ترجمان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر جیل کے سامنے عارضی بکرا منڈی کو روکنے کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک بار پھر سینٹرل جیل حیدرآباد توڑنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد انتظامیہ نے مدد کے لیے ضلعی پولیس کو خط لکھا اور کوئی جواب نہ ملنے پر دستیاب نفری کو ہی جیل کے اندر اور باہر الرٹ کر دیا جبکہ ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات گلزاراحمد چنہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ بنوں جیل کی طرز پرسینٹرل جیل جیل پر حملے کے دھمکیوں کے بعد پولیس سے مدد کے لیے ایک خط لکھا گیا تھا لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔

سب سے زیادہ خطرہ جیل کی زمین پر قائم بس اسٹینڈ کی سمت سے ہے جسے شہر سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف ایس پی ہیڈ کوارٹر امجد شیخ کہتے ہیں کہ جیل حکام کی جانب سے حفاظتی انتظامات کے لیے لیٹر ملتے ہی جیل کے مرکزی دروازے پر بکتر بند گاڑی کھڑی کردی گئی اور ایس پی فرنٹیئر کانسٹیبلری کو جیل میں دو پلاٹون متعین کرنے کے لیے خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔

دوسری طرف بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر ہر سال عارضی بکرا منڈی لگائی جاتی ہے جس کا گزشتہ سال بھی ایک کروڑ روپے کا ٹھیکہ ہونے کے باوجود سرکاری اہلکاروں نے منڈی نہیں لگانے دی اور اب ایک بار پھر بکرا منڈی کو روکنے کے لیے یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے کیونکہ جیل کے ساتھ واقع خالی پلاٹ پر بکرا منڈی نہیں لگے گی تو ہٹڑی کے مقام پر پولیس کے ایک اعلیٰ افیسر کی زمین پر لگائی جانے والی بکرا منڈی کو فائدہ ہو گا۔