یمن میں 8سالہ لڑکی شادی کی پہلی ہی رات 40سالہ شوہرکی درندگی کا نشانہ بن کرہلاک

ویب ڈیسک  منگل 10 ستمبر 2013
ایک اندازے کے مطابق یمن میں 25 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سے کم عمر میں کردی جاتی ہے. فوٹو: فائل

ایک اندازے کے مطابق یمن میں 25 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سے کم عمر میں کردی جاتی ہے. فوٹو: فائل

صنعا: کم عمر میں  لڑکیوں شادیوں کا رحجان صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر کئی ممالک میں بھی پایا جاتا ہےجس کی تازہ مثال  یمن میں سامنے آئی جہاں 8 سالہ معصوم لڑکی کی شادی  40 سالہ شخص سے کردی گئی تاہم وہ شادی کی پہلی ہی رات شوہر کی درندگی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگئی۔

کویتی اخبار الوطن کے مطابق 8 سالہ راوان کی شادی 40 سالہ شخص سے کی گئی تاہم شادی کی رات ہی اسے شوہر نے اپنی ہوس کا نشانہ بناڈالا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئی  اور خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی۔ واقعے کے بعد یمن کی کئی تنظیموں نے پولیس سے واقعے کے خلاف کارروائی کرنے اور سفاک دولہے اور لڑکی کے والدین کو گرفتارکرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم  ابھی تک اس حوالے سے کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی۔

واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق یمن میں 25 فیصد لڑکیوں کی شادی 15 سے کم عمر میں کردی جاتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔