کراچی میں پانی کا مسئلہ ہم اکیلے حل نہیں کر سکتے وفاق تعاون کرے مراد علی شاہ

یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں، وفاق نے گرین لائن کیلیے بجٹ میں صرف25فیصد رقم رکھی ہے معلوم نہیں کب مکمل کریںگے، وزیراعلیٰ


Staff Reporter July 09, 2019
اورنج لائن ہماری ذمے داری ہے، ریڈ اور یلو لائن پر بھی مذاکرات جاری ہیں، کراچی کیلیے 162 ارب کے پیکیج کا صرف اعلان ہوا۔ فوٹو : فائل

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ اکیلے حل نہیں کرسکتے وفاق تعاون کرے۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کراچی کو بہتر کرنا ہے اور شہر کو پانی فراہم کرنا جو سندھ حکومت اکیلے نہیں کرسکتی ہمیں وفاقی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہے۔ میں اب بھی ان سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ اس مسئلے پر ہمارا ساتھ دیں یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ وفاقی حکومت بنا رہی ہے اور کہا گیا کہ سال2018 میں مارچ میں مکمل کردیں گے اور آپ بسیں لے آئیں، ہم بسیں اس لیے نہیں لائے کہ ہم نے اس منصوبے کو مارچ 2018 میں مکمل ہوتے نہیں دیکھ رہے تھے، پھر کہا کہ جون 2018 تک مکمل ہوجائے گا۔ بسیں لانے کا سائن کنٹریکٹ تھا جس کو میں نے موخر کیا، کیونکہ اگر آرڈر دیتا تو پہلی جولائی سے آج تک اس کمپنی کو رقم ادا کرنی پڑتی۔

انھوں نے کہا کہ پھر نئی حکومت آگئی، ستمبر 2018 کو وفاقی حکومت نے کہاکہ بسیں بھی ہم لائیں گے، ہم نے کہا یہ اچھی بات ہے کراچی کیلیے وفاقی حکومت خرچہ کرنا چاہتی ہے تو کرے، مجموعی ضرورت کاصرف 20 سے 25 فیصد انھوں نے بجٹ میں رکھا ہے،اب پتہ نہیں کتنے وقت میں وہ اس منصوبے کو مکمل کریں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اورنج لائن بالکل ہماری ذمے داری ہے، میں یہ مانتا ہوں اس میں تاخیر ہوئی اس کی ایک بڑی وجہ گرین لائن منصوبے کا مکمل نہ ہوناہے کیوں کہ اورنج لائن اورگرین لائن ایک ساتھ آپریٹ کریں گی۔ اورنج لائن5کلو میٹر کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جو گرین لائن کے ساتھ چلے گا ۔

ریڈ لائن کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا گذشتہ دو تین سال سے ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے بات کررہے تھے اور اب انھوں نے اس منصوبے کو منظور کر لیا ہے اس کے ساتھ ساتھ جو یلو لائن ہے اس پر ورلڈ بینک کے ساتھ لون ایگریمنٹ منظور ہوگیا ہے لیکن ایکنک میں روکا ہوا ہے۔بھر پور طریقہ سے اگر کام کیا جائے تو 18 ماہ سے 2سال میں یہ منصوبے مکمل ہوجائیں گے۔

ایک سوال پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھاکہ اسپتال صرف سندھ حکومت چلائے گی ان اسپتالوں میں ہم نے بہت خرچہ کیاہے پہلے دن سے کہا تھا یہ اسپتال وفاق نہیں چلاسکتا۔ سول اسپتال میں مسائل حل کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ ایمنسٹی اسکیم کے اہداف حاصل نہیں ہوئے۔

وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ کراچی پیکیج سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ وزیراعظم 162 ارب روپے کا حکم دے کر چلے گئے مگر اب تک ہوا کچھ بھی نہیں۔