کے ای ایس سی کے 100 سال مکمل معیاری کارکردگی کا حامل ادارہ زبوں حالی کا شکار

ادارے کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں، ترجمان کے ای ایس سی


Staff Reporter September 14, 2013
ادارہ 13 ستمبر 1913 میں قائم کیا گیا ، ابتدائی 50 سال کے دوران مثالی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کا آج تقسیم کاری اور بلنگ کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی نے جمعہ کو اپنے قیام کے 100 سال مکمل کرلیے، ادارہ 13 ستمبر 1913 میں قائم کیا گیا۔

ابتدائی 50 سال کے دوران مثالی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کا تقسیم کاری اور بلنگ کا نظام بوسیدہ ہوچکا ہے، 15 منٹ کے ریکارڈ وقت میں بجلی کی عدم فراہمی کی شکایت دور کرنے والی کمپنی کے صارف اب 15 گھنٹے بعد بھی بجلی کی بحالی پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، تفصیلات کے مطابق 100 سال پہلے قا ئم کی جانے والی کے ای ایس سی اور موجودہ کے ای ایس سی کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ موازنہ نہیں بلکہ2 مختلف اداروں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

کراچی کے سینئر شہریوں کے مطابق 1931 میں کے ای ایس سی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر بمبئی اسٹاک ایکس چینج میں رجسٹرڈ کی گئی ادارے کا انتظام بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ذمے داری تھا جس کے 11 اراکین تھے، بورڈ میں شہر کے معزز کاروباری خاندانوں کی نمائندگی تھی،بورڈ آف ڈائریکٹرز کی اکثریت پارسیوں پر مشتمل تھی جبکہ مسلمان اور ہندو تاجر بھی ڈائریکٹرز میں شامل تھے، اپنے قیام کے 50 سال تک کے ای ایس سی ایک انتہائی بااعتماد اور معتبر ادارہ سمجھا جاتا تھا، ابتدا میں کے ای ایس سی کا سسٹم ڈائریکٹ کرنٹ ( ڈی سی ) فراہم کرتا تھا۔

بعد ازاں 110 وولٹ سے چلنے والے آلات متروک ہونے کے بعد اسے بتدریج آلٹرنیٹ کرنٹ( اے سی) پر منتقل کیا گیا، متعدد اعتبار سے کے ای ایس سی کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے بہتر سمجھا جاتا تھا ، پاکستان بننے کے بعد پہلی 2 دہائیوں تک کراچی میں بجلی کے نظام میں آنے والی خرابی کی صورت میں درج کی جانے والی شکایت کو دور کرکے بجلی کی بحالی کا اوسط وقت 15 منٹ تھا جو کہ اب خواب و خیالوں کی بات دکھا ئی دیتا ہے، پاکستان بننے کے بعد کراچی کو نئی مملکت کا دارالخلافہ قرار دیا گیا، آبادی میں اچانک ہونے والے اضافے کے باوجود کے ای ایس سی کی معیاری کارکردگی برقرار رہی۔

50 کی دہائی میں کے ای ایس سی کے صارفین کی مجموعی تعداد 40 ہزار تھی، ہر صارف کی جانب سے ادارے کو لکھے جانیوالے کسی بھی خط کا نہ صرف تحریری طور پر جواب دیا جاتا تھابلکہ صارف کے مسئلے کو ہر ممکن حل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، ابتدائی سالوں میں کے ای ایس سی کو چلانے والے ماہرین کی خدمات مشرقی پاکستان اور ملک کے دیگر حصوں میں غیرمعمولی صورتحال کی صورت میں بجلی کی بحالی کے کاموں کیلیے طلب کی جاتی تھی، عرب ممالک (مشرق وسطی) کے اہم ترین شہروں میں بجلی کے نظام کی بنیاد ڈالنے والوں میں کے ای ایس سی کے تجربہ کار انجینئرز اور عملے کا بڑا حصہ ہے، 70 کی دہائی سے ادارے کی کارکردگی بتدریج غیرمعیاری ہوگئی اور 90 کی دہائی میں اپنے عروج پر پہنچ گئی۔



حکومت نے ادارے کا انتظام فوج کے حوالے کردیا ، بعد ازاں 2005 میں کے ای ایس سی کی نجکاری کردی گئی جس کے بعد سے اب تک تین نجی بین الاقوامی کمپنیاں ادارے کا انتظام سنبھال چکی ہیں، انتظامیہ کا دعوی ہے کہ وہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلیے انھوں نے خصوصی اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں بجلی کی فراہمی کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں کی نسبت خاصی بہتر ہے، ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ کے ای ایس سی نے اپنے انتظامی ڈھانچے کو نہ صرف بہتر کیا ہے بلکہ ادارے کی پیداواری استعداد کو بڑھانے کیلیے کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں تقریبا ایک ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا گیا ہے، صارفین کا موقف ہے کہ کے ای ایس سی کی جانب سے کی جانے والی اضافی بلنگ کی شکایات کی شنوائی تقریبا ناممکن ہوچکی ہے۔

ادارے میں طبقاتی نظام کو رائج کرکے صارفین کو اعلیٰ افسران تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کردیے گئے ہیں اور کسی بھی صورت میں بھیجے جانے والے بلا جواز اضافی بل کو جمع کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے، بجلی کے نظام میں آنے والی خرابی کی صورت میں شہریوں کوشکایتی مراکز کے دھکے کھانے کے باوجود اوسطا 8 سے 12 گھنٹے بعد بجلی کی فراہمی بحال کی جاتی ہے جبکہ مون سون کے موسم کے دوران یہ دورانیہ کئی دنوں پر محیط ہوجاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کے ابتدائی ماہرین نے کراچی کے موسم کی مناسبت سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شہر میں تانبے کی تاریں موثر بجلی کی فراہمی کیلیے ناگزیر ہیں تاہم موجودہ انتظامیہ نے تانبے کی جگہ المونیم کی سستی دھات سے بنی تاروں کا استعمال شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے شارٹ سرکٹ اور کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے جن میں بڑی تعداد کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز پر تعینات کنٹریکٹ عملے کی ہے جنھیں کسی بھی قسم کی مراعات بھی حاصل نہیں ہیں، انتظامیہ کا سارا انحصار اپنے ملازمین کے بجائے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے افسران اور ٹھیکیداری نظام پر ہے کیونکہ ادارے کے ہزاروں ملازمین کو گذشتہ سالوں میں ملازمت سے فارغ کیا جاچکا ہے۔