مالی بحران بلدیہ عظمیٰ کا صفائی مہم شروع کرنے سے انکار

علاقے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے،ضلعی ایڈمنسٹریٹرز


Staff Reporter August 29, 2012
ٹریفک کی روانی بہتر کرنے کے سلسلے میںناظم آباد گجر نالے کے قریب پل کی توسیع کا کام جاری ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ محمد حسین سید کی زیرصدارت بدھ کو ہونیوالے اجلاس میں تمام اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز نے مالی بحران کے باعث گورنر سندھ کی ہدایت پر صفائی مہم شروع کرنے سے انکار کردیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے مون سون میں برساتی نالوں کی صفائی ودیگر انتظامات اور بارشوں کے بعد پھیلنے والے وبائی امراض پر قابو پانے کیلیے اقدامات سے بھی معذوری کا اظہار کردیا ہے،۔

ضلعی ایڈمنسٹریٹرز نے سندھ حکومت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں گذشتہ ایک سال سے ایک پائی وصول نہیں ہوئی ہے جبکہ آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں 50فیصد کٹوتی کے ساتھ فنڈز کا اجرا کیا جارہا ہے،ترقیاتی کام مکمل طور پر ٹھپ پڑے ہیں، تفصیلات کے مطابق بدھ کو ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ محمد حسین سید کی زیرصدارت سوک سینٹر میں اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بلدیہ شرقی، بلدیہ جنوبی، بلدیہ ملیر، بلدیہ وسطی اور بلدیہ غربی کے ایڈمنسٹریٹرز ومیونسپل کمشنرزنے شرکت کی، ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر کراچی نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی ہدایت پرکراچی میں صفائی مہم منعقد کرنے پر زور دیا تاہم تمام ضلعی ایڈمنسٹریٹرز ومیونسپل کمشنرز نے نہ صرف صفائی مہم چلانے سے معذوری کا اظہار کردیا ہے بلکہ اجلاس کو آگاہ کیا کہ اداروں کوشدید ترین مالی بحران کا سامنا ہے جس کے باعث مون سون کے انتظامات اور بارشوں کے بعد وبائی امراض کو کنٹرول کرنے کیلیے انتظامات کرنے سے قاصر ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نومبر 2011سے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں فنڈز موصول نہیں ہوئے ہیں جس کے باعث ضلع شرقی کو 9 کروڑ 37لاکھ، ضلع جنوبی کو 12کروڑ 32لاکھ، ضلع ملیر کو 4 کروڑ 70لاکھ روپے،ضلع وسطی کو 7کروڑ 25لاکھ روپے اور ضلع غربی کو 3کروڑ 28لاکھ روپے خسارے کا سامنا ہے، علاوہ ازیں آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں 50فیصد کٹوتی کے ساتھ فنڈز ریلیز کیے جارہے ہیں جس سے ملازمین کی تنخواہیں بڑی مشکل سے دی جارہی ہیں جس میں 2012-13کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں ہونے والا 20 فیصد اضافہ شامل نہیں ہے۔

ایڈمنسٹریٹرز نے اجلاس کو بتایا کہ مالی بحران کے باعث ریگولر صفائی کا نظام شدید متاثر ہے اورعلاقے کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں، فنڈز کے نہ ہونے کے باعث کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کی مرمت مکمل طور پر بند ہے، تقریباً آدھی گاڑیاں خراب پڑی ہیں جبکہ3 ماہ سے پٹرول پمپس کو ایندھن کی مد میں واجبات کی ادائیگی نہ کرنے پر ڈیزل کی فراہمی ادھار پر بھی بند ہوچکی ہے، بڑی مشکل سے چند کچرا اٹھانے والی گاڑیاں علاقوں سے لینڈ فل سائیڈوں پر جاکر کچرا ڈمپ کررہی ہیں تاہم 70فیصد کچرا علاقوں سے نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

ضلعی ایڈمنسٹریٹرزنے نمائندہ ایکسپریس کوبتایا کہ بلدیاتی اداروں نے دو ماہ بڑی مشکل سے اپنے ریزرو فنڈز استعمال کرتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں کا اجرا کیا تاہم اگر سندھ حکومت کا یہی رویہ رہا تو اگلے ماہ ملازمین کو تنخواہیں کو ادائیگی ممکن نہ ہوگی۔