اے ٹی ایم چوری کے ملزم کی ہلاکت پر 3 پولیس اہلکاروں کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ

ویب ڈیسک  پير 2 ستمبر 2019
صلاح الدین کو ناحق قتل کیا گیا، کئی بار تھانے فون کیا لیکن کوئی کچھ بتاتا نہیں تھا، والد فوٹو:فائل

صلاح الدین کو ناحق قتل کیا گیا، کئی بار تھانے فون کیا لیکن کوئی کچھ بتاتا نہیں تھا، والد فوٹو:فائل

رحیم یار خان: اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چرانے اور منہ چڑانے والے ملزم کی پولیس حراست میں ہلاکت پر تھانے دار سمیت 3 پولیس اہلکاروں کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس حراست میں ملزم صلاح الدین کی ہلاکت پر ایس ایچ او تھانہ سٹی اے ڈویژن محمود خان سمیت تین نامزد پولیس اہلکاروں کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ صلاح الدین کے ورثا لاش لینے شیخ زید اسپتال پہنچے تو بیٹے کی لاش دیکھ کر ریٹائرڈ ٹیچر والد آب دیدہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چرانے اور منہ چڑانے والا ملزم پولیس حراست میں ہلاک

والد نے کہا کہ بیٹے کو ناحق قتل کیا گیا، اس کی ہلاکت کا علم میڈیا رپورٹ سے ہوا، جس کی خبر سن کر پورا گھر سکتے میں آگیا، تھانے کئی بار فون کیا لیکن کوئی کچھ بتاتا نہیں تھا اور فون بند کر دیتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھانے کے ایس ایچ او سمیت تمام اہلکاروں پر مقدمہ درج کیا جائے۔ صلاح الدین کی لاش لیکر ورثا اپنے آبائی علاقے روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص اے ٹی ایم مشین توڑنے کے بعد اس میں موجود ایک کارڈ نکال رہا ہے اور ساتھ ہی سی سی ٹی وی کیمرے پر منہ چڑاتا ہے۔ رحیم یار خان پولیس نے ملزم صلاح الدین کو گرفتار کرلیا لیکن پولیس تشدد کی وجہ سے وہ حراست میں ہی دم توڑ گیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ صلاح الدین ذہنی مریض تھا جو ہمیشہ ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔