جہانگیر صدیقی کی کمپنی اسپرنٹ انرجی کیخلاف جعلسازی کے17مقدمات درج

ملکی تاریخ کے ایک اورمیگا اسکینڈل کاسراغ لگا لیاگیا،ایف آئی اے کی تحقیقات مکمل


Staff Reporter September 28, 2013
مقدمات ملک کے3 شہروں میں درج، سپریم کورٹ نے گنجان آبادی سے سی این جی اسٹیشنزکی منتقلی کاحکم دیاتھا، فوٹو: فائل

ایف آئی اے نے پاکستان کی تاریخ کے ایک اورمیگااسکینڈل کاسراغ لگالیا ہے۔

جہانگیر صدیقی (جے ایس گروپ)نے اپنے سی این جی اسٹیشنزکے مقامات تبدیل کرانے کے لیے اوگراکوجعلی این او سی دے دیے۔ایف آئی اے کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے تحقیقات مکمل کرکے ملک کے3بڑے شہروں میں مذکورہ گروپ کے خلاف17مقدمات درج کرادیے ہیں۔ مقدمات28اگست 2013 کو درج کیے گئے ہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے ظفر اقبال نے اس حوالے سے تحقیقات کی ہیں اوراس کی رپورٹ ایف سی آرلیگل برانچ کوبھیج دی ہے ملیگل برانچ کی رپورٹ آنے کے بعدمجموعی طور پر17مقدمات درج کرالیے گئے ہیں۔

سی این جی اسٹیشنوں کی ایک جگہ سے دوسری منتقلی کے اس اسکینڈل میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کابھی ذکرہے۔ان سے بھی اس حوالے سے منظوری لی گئی تھی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی اوگرا کوحکم دیاتھاکہ گنجان آبادی والے علاقوں سے سی این جی اسٹیشنزمنتقل کیے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) گوجرانوالہ سرکل نے ایف آئی اے،اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ(ایس آئی یو) اسلام آباد کی انکوائری نمبر29/2013 کے تحت مجاز اتھارٹی کے حکم پر جہانگیر صدیقی (جے ایس) گروپ کی ایک کمپنی میسرز اسپرنٹ انرجی لمیٹڈاور دیگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی (ایس این جی پی ایل)کے جعلی خطوط کے ذریعے4سی این جی اسٹیشنز وزیر آباد اورگوجرانوالہ سے عارف والا ، حاصل پور ، بہاول نگر اور علی پور منتقل کروانے کے الزام میں 4 ایف آئی آر 31/32/33/34/2013 درج کرلی ہیں۔

ایف آئی اے گوجرانوالہ سرکل نے ان چاروں ایف آئی آرمیں پاکستان پینل کوڈکی4دفعات 471, 468, 420 اور 190عائد کی ہیں ۔ جے ایس گروپ کی کمپنی اسپرنٹ انرجی نے مذکورہ چاروں سی این جی اسٹیشنزکے لائسنس اوگرا سے سال 2007 میں حاصل کیے تھے۔بعدازاں سال 2009 میں ان سی این جی اسٹیشنزکے لائسنس کی2سال کے لیے توسیع کروائی تھی۔اسپرنٹ انرجی نے ایس این جی پی ایل کے نومبر2009کی مختلف تاریخوں کے4جعلی خطوط کی بنیادپراوگرا سے ان سی این جی اسٹیشنزکی منتقلی کی منظوری حاصل کی تھی ، سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سرکاری دستاویزات کے مطابق جعل سازی اور دھوکہ دہی میں ملوث اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ،اب بھی جے ایس گروپ کی ملکیتی کمپنی ہے جس کے ثبوت یہ ہے کہ کمپنی کے30فیصد شیئرزکے حامل موجودہ ڈائریکٹرمحمد علی چارنیاسال 2010میں اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کے چیف اکاؤنٹٹ اور کمپنی سیکریٹری تھے۔



جب اسپرنٹ انرجی کی60فیصد شیئرہولڈنگ جہانگیر صدیقی اینڈ سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے پاس تھی۔سال2010 میں10فیصد شیئرزکے حامل ڈائریکٹر سلیمان لالانی بھی جہانگیر صدیقی اینڈ سنز(پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ڈائریکٹر تھے ۔ سال2010میں اسپرنٹ انرجی کے 10فیصد شیئرزکی حامل عائشہ قادری جے ایس بینک کی ملازمہ ہیں۔اسپرنٹ انرجی لمیٹڈکی جانب سے20نومبر 2009کو ایس ای سی پی کے جوائنٹ رجسٹرار ،کمپنیز رجسٹریشن آفس کراچی کو داخل کیے گئے فارم ''اے'' کے مطابق اسپرنٹ انرجی کا مجاز حصص سرمایہ 10کروڑ روپے ،10روپے فیس ویلیو ایک کروڑ حصص پر مشتمل تھا جس میں سے 60 فیصد شیئرز جہانگیر صدیقی اینڈ سنز ،10فیصد شیئرز محمد ساجد ، 10فیصد شیئز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سید حسن اکبر کاظمی ،10فیصد شیئرزسلیمان لالانی (ڈائریکٹرجہانگیر صدیقی اینڈ سنز) اور10فیصد شیئرز عائشہ قادری کی ملکیت تھے ۔ 10نومبر2010کو ایس ای سی پی میں داخل کیے گئے فارم ''اے '' کے مطابق اسپرنٹ انرجی کی شیئرہولڈنگ بھی یہی تھی ۔

21اپریل 2011کو اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کی جانب سے ایس ای سی پی میں کمپنیز آرڈیننس مجریہ 1984کے سیکشن 2005کے تحت داخل کیے گئے فارم 29 کے مطابق اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کے ڈائریکٹر محمد علی چارنیا (سابق کمپنی سیکریٹری اور چیف اکاؤنٹنٹ)،منظر لطیف،جنید عمران اور عمر سہیل مرزا ہوگئے تھے۔جنید عمران اور عمر سہیل مرزا جے ایس گروپ کی کمپنی جے ایس لینڈرز پرائیویٹ لمیٹڈکے بھی ڈائریکٹرز ہیں جبکہ اسپرنٹ انرجی کی شیئرہولڈنگ جے ایس گروپ کے خیراتی ادارے (ٹرس) مہوش اینڈجہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے دیدی گئی تھی۔19دسمبر2012 کو اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کی شیئر ہولڈنگ ایک بار پھر تبدیلی کی گئی ۔40 فیصد شیئر ہولڈنگ کے حامل محمدمنظر لطیف ، 30فیصد شیئرز کے حامل محمدعلی چارنیا اور 30 فیصد شیئرز کے حامل جنید عمران ڈائریکٹرہوگئے تھے۔

28نومبر 2011 اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کے ایس ای سی پی میں داخل کیے گئے فارم ''اے'' کے مطابق 11اپریل 2011 کواسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کے ایک کروڑ شیئرز کی تبدیلی کی رجسٹریشن کرائی گئی تھی جس کے مطابق محمدساجد کے 10فیصد حصص ، محمد علی چارنیا، سید حسن اکبر کاظمی کے10فیصد حصص ، محمد منظر لطیف ، سلیمان لالانی (ڈائریکٹر جہانگیر صدیقی اینڈ سنز) کے 10 فیصد حصص جنید عمران (ڈائریکٹر جے ایس لینڈر (پرائیویٹ لمیٹڈ) جہانگیرصدیقی اینڈ سنز کے20 فیصد حصص،محمد علی چارنیا (سابق چیف اکاؤنٹنٹ اورکمپنی سکریٹری) جہانگیرصدیقی اینڈ سنز کے20 فیصد حصص جنید عمران (ڈائریکٹر جے ایس لینڈرز لمیٹڈ )کے نام منتقل کردیے گئے تھے۔

جبکہ31 اکتوبر 2011 کو عمل سہیل مرزاکے بھی 10فیصد حصص محمدمنظر لطیف کے نام منتقل کرکے ان کی رجسٹریشن کرالی گئی تھی۔اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کی جانب سے 19دسمبر 2012 کو ایس ای سی پی کے تھرڈ شیڈول سیکشن156کے تحت جمع کرائے گئے فارم ''ٓے''کے مطابق سید محمد نثار حیدر اسپرنٹ انرجی کے چیف ایگزیکٹو سید وحی الدین اعظمی چیف اکاؤنٹنٹ اور کمپنی سکریٹری ہوگئے تھے۔ مذکورہ بالا تمام سالوں میں اسپرنٹ انرجی لمیٹڈ کا رجسٹرڈ آفس7 ایف دی فورم بلاک9 کلفٹن کراچی میں رہا ہے جو جے ایس گروپ کا ہی دفتر ہے۔واضح رہے کہ اسی جے ایس گروپ کیخلاف ایس ای سی پی نے بھی پاکستان کی تاریخ کے ایک میگااسکینڈل میں ملوث ہونے پرکراچی کی عدالت میں کرمنل کیس داخل کیاہوا ہے۔ایف آئی اے نے لاہور ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں مزید 12ایف آئی آردرج کی ہیں۔