وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس الاٹمنٹ سے زیادہ زمین پر قابض اداروں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم

سرکاری زمین الاٹ شدہ مقصد کیلیے ہی استعمال ہونی چاہیے،تمام کاشت کاروں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، قائم علی شاہ


Staff Reporter October 02, 2013
ٹیکس وصولی بڑھائی جائے،ایکسائز افسروں کو وزیر اعلیٰ کی ہدایت فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران کو احکام دیے ہیں کہ وہ ان تمام اداروں کو نوٹس جاری کریں جنھوں نے اپنی الاٹمنٹ سے زیادہ سرکاری زمین قبضے میں لی ہوئی ہے۔

افسران اس بات کو یقینی بنائیں کہ متعلقہ ادارے کو سرکاری زمین جس مقصد کے لیے الاٹ کی گئی ہے وہ اسی مقصد کیلیے استعمال ہوں ۔ یہ احکام انھوں نے منگل کو وزیراعلیٰ ہائوس میں محکمہ ریونیوکی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے ریونیو عملداروں کو سختی سے ہدایات کی کہ سرکاری زمین کی موجودہ صورت حال جانچنے کے لیے وہ فوری طور پر اپنے (جی آئی ایس) سروے کا کام مکمل کرکے سرکاری زمینوں پر قابضین کو نوٹس جاری کریں ۔

سرکاری زمین الاٹمنٹ کے مقصد کے علاوہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے اور الاٹمنٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں قانوناً زمین خود بہ خود سندھ حکومت کو واپس مل جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سندھ بورڈ آف ریونیو سرکاری زمین کے کسٹوڈین ہے، لہذا اسے اپنی سرکاری املاک کی حفاظت کرنا چاہیے ۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو شاہد گلزار شیخ نے بتایاکہہم 2013 کا ریونیو ٹارگٹ حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کا کام بھی جاری ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ 4305.76 ملین روپے ہے۔ صوبے کے 27 اضلاع کے 6 ہزار دیہوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو چکا ہے اور اگلے ہفتے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو تصدیق کے لیے بھیجا جائے گا ۔



 

وزیراعلیٰ سندھ نے ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ وہ زرعی انکم ٹیکس کی شرح اور دیگر رعایتی حد کا بھی ازسرنو جائزہ لیں تاکہ کاشت کاروں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنا زرعی ٹیکس ادا کریں۔ سید قائم علی شاہ نے ریونیو عملداران کو احکام جاری کیے کہ وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے حکم پر صوبے بھر کی زمین کا ریونیو ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے منصوبے پر جوکہ4305.76 روپے ملین کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، فوری طور پر مکمل کرنے کو یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی ہدایات دیں کہ وہ فوری طور پر غیر سروے شدہ سرکاری زمین کا (جی آئی ایس) سروے کراکے اپنا ریکارڈ درست کریں ۔

ملکیت کے رد و بدل اور دوسرے معاملات میں ٹیکس سے بچنے کے غیر قانونی عمل کے تدارک کیلیے پلاٹوں کے ہر قسم کے تبادلے اور فیکٹریوں کے معاملات کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ شاہد گلزار شیخ نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ ریونیو ریکارڈکو شفاف طریقے سے کمپیوٹرائزڈ کیلیے ایک ڈیٹا سینٹر قائم کیاگیا ہے جس کا بیک اپ حیدرآباد میں رکھاگیا ہے تاکہ اس کی حفاظت کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ ایکسائزکے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ٹیکس کی وصولی کے کام کو تیز کریں اور اس سال کے 32 ملین روپے کے ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔