جامعہ اردومیںخلاف قانون اقدام برداشت نہیں کرینگےاساتذہ

عید ملن تقریب سے ڈاکٹر توصیف احمد،پروفیسر ناصر عباس ،سیما ناز صدیقی اوردیگرکاخطاب


Staff Reporter August 31, 2012
عید ملن تقریب سے ڈاکٹر توصیف احمد،پروفیسر ناصر عباس ،سیما ناز صدیقی اوردیگرکاخطاب، فوٹو : فائل

وفاقی اردو یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یونیورسٹی میں خلاف قانون کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا نیز یہ کہ سینیٹ کے تین منتخب ناموں میں سے کسی ایک کا تقرر بطور وائس چانسلر جلد از جلد کردیا جائے تا کہ جامعہ مزید بحران کا شکار نہ ہو ، اس بات کا اظہار گلشن کیمپس میں سینیٹ، سنڈیکیٹ اور جی آر ایم سی کے اراکین کی جانب سے اساتذہ کو دی گئی عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔

رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر قمرالحق نے کہا کہ مثبت سوچ اور اقدامات سے ہی جامعہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے،شیخ الجامعہ تلاش کمیٹی کے رکن ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ جامعہ اردو کا آرڈیننس نہایت پیچیدہ ہونے کی وجہ سے اس کے انتظامی معاملات حل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تلاش کمیٹی کے رکن ڈاکٹر زاہد نے کہا کہ چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا یونیورسٹی کے چانسلرکو خط لکھنا حیران کن ہے کیونکہ وہ تلاش کمیٹی کے کنوینر کی حیثیت سے ابتدا سے ہر مرحلے پر موجود تھے ، رکن سینیٹ سیما ناز صدیقی نے کہا کہ جامعہ اردو کا تمام تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف متحد ہوکر جدو جہد کرے گا ، پروفیسر ناصر عباس نے کہا کہ وفاقی جامعہ اردو کے دو بڑے کیمپس کراچی میں قائم ہیں۔

لہٰذا وائس چانسلر کراچی سے ہونا چاہیے اورصدردفتر بھی کراچی میں ہونا چاہیے، ڈاکٹر سلمان ڈی محمد نے کہا کہ جامعہ کے کراچی کے کیمپسوںکو ہرگز دوبارہ کالج نہیں بننے دیں گے ،ڈاکٹر عارف زبیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور جامعہ اردو کی بقا و سربلندی کے لیے دعا کی۔