52 ارب 95کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز آج جاری ہونگےقائم علی شاہ

ترقیاتی کاموں میں ناقص مواد کے استعمال کی شکایتیں ملی ہیں، معیاریقینی بنایا جائے، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو ہدایت


Staff Reporter August 31, 2012
کراچی :وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں (فوٹو : ایکسپریس)

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ منتخب حکومت نے 4 برسوں میں کئی ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی ہیں اور ہماری یہ کوشش ہے کہ شہید قائد بینظیر بھٹو کے منشور اور پروگراموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔ انھوں نے یہ بات محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے دسمبر 2012ء تک تمام جاری اسکیمیں مکمل کرنے کے احکام دیے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی کام کے معیار کو یقینی بنایا جائے، غیر معیاری ترقیاتی کام اور ناقص میٹیریل کے استعمال کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں ۔

سید قائم علی شاہ نے کہا کہ لیاری کے ترقیاتی کاموں کے لیے دو ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے جس میں سے 80کروڑ روپے لیاری پیکیج کے تحت سڑکوں، نکاسی آب اور پارکوں کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔ 40کروڑ روپے لیاری میڈیکل کالج کی تعمیر، 40 کروڑ روپے لیاری میں معاشی ریلیف پر 10کروڑ روپے لیاری یونیورسٹی، 6کروڑ روپے شہید ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج جبکہ 5کروڑ روپے بیگم نصرت بھٹو ویلفیئر اسکیم کے زمرے میں خرچ کیے جائیں گے۔کیماڑی ملیر ترقیاتی پیکیج کے تحت مختلف اسکیموں کے لیے ایک ارب 60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

گزشتہ 4سال کے دوران 5 ارب روپے سندھ کے مختلف دیہات میںگیس کی فراہمی کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی کو دیئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 1107 دیہات کو گیس فراہم کرنے کی منظوری دی گئی جن میں سے 401 کو پہلے ہی گیس کی سہولت دی جاچکی ہے۔ صوبے کے دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی سے متعلق پروگرام کے تحت 4 ارب روپے حیسکو کو دیے گئے۔ ضلع خیرپور کے 399 دیہات میں سے268 دیہات کو بجلی فراہم کی جا چکی ہے جبکہ 131 دیہات کو چند ماہ میں بجلی فراہم کر دی جائے گی ۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے افسران کو جنوری 2013 ء سے فروری 2013 ء تک ترقیاتی اسکیموں سے متعلق پلان مرتب کرنے کے احکام دیے ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ترقیاتی بجٹ کے لیے مختص کی گئی رقم میں سے 25 فیصد یعنی 25 ارب 95 کروڑ روپے یکم ستمبر (آج) ریلیزکردیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کے لیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کے احکام بھی دیے ۔