سیاسی جماعتوں کا آزاد کشمیر کے عبوری آئین میں ترامیم پر اتفاق

وزیرامورکشمیرکی زیرصدارت اجلاس،سیاسی جماعتیں سفارشات پارلیمانی کمیٹی کوپیش کریں گی جودوماہ میں انھیں حتمی شکل دیگی


APP August 31, 2012
(فوٹو : این این آئی )

ISLAMABAD: آزادکشمیرکی تمام سیاسی جماعتوں نے1974 کے عبوری آئین میں مناسب ترامیم پراتفاق کرتے ہوئے طے کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنی سفارشات پارلیمانی کمیٹی کو پیش کریں گی۔ پارلیمانی کمیٹی2ماہ میں یہ سفارشات حتمی شکل دے کر مجاز اتھارٹی کو ارسال کرے گی۔ جس کی روشنی میں صدر اور وزیراعظم پاکستان آزادکشمیر کے عوام کو مزید مراعات و اختیارات اور حقوق دینے کی منظوری دیں گے۔جمعرات کو سیاسی قیادت کا اجلاس وزیر امور کشمیر میاں منظور وٹو کی صدارت میں ان کی رہائش گاہ پرہوا۔

جس میں صدر آزادکشمیر سردار محمد یعقوب خان، وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید خان، قائد حزب اختلاف ومسلم لیگ (ن)کے صدر راجہ فاروق حیدر خان، مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق، سابق صدر سردار محمد انور خان،راجہ ذوالقرنین خان، سابق وزیراعظم سلطان محمود، جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر عبدالرشیدترابی، سینئر وزیر چوہدری محمد یٰسین لبریشن لیگ کے صدر جسٹس(ر)عبدالمجید ملک، مولانا امتیاز صدیقی اور شاہ غلام قادر نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد تمام رہنمائوں کے ہمراہ بریفنگ دیتے ہوئے وزیر امورکشمیر منظور وٹو کہا کہ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کو اجلاس میں مدعو کیاگیا تھا جس میں تمام اہم سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سابق صدورووزرائے اعظم نے شرکت کی جس پر ان کے مشکور ہیں۔ اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق رائے ہوا ہے کہ 1974ء کے عبوری آئین میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں ، کشمیر کونسل کی نشستوں میں اضافہ زیرغورہے ۔

صدر زرداری اختیارات پارلیمنٹ کو دیے'گلگت بلتستان کو بااختیار بنایا'اسی طرح وزارت امورکشمیر سے اختیارات آزادحکومت کو منتقل کریںگے۔ غیرملکی میڈیا کی طرف سے آزادکشمیرکومقبوضہ پاکستانی کشمیر قراردینا لغوہے۔