سینیٹ میں معرکہ حق کی کامیابی پر سول و ملٹری قیادت اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور

قرارداد متفقہ منظور، وزیر اعظم، صدر مملکت، فیلڈ مارشل، تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا


ضیغم نقوی May 07, 2026

سینٹ نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی پر سول و ملٹری لیڈرشپ اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روزپارلیمنٹ کے ایوان بالاسینٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینٹ سیدال خان خان ناصرکی زیرصدارت شروع ہوا۔

اجلاس شروع ہوتے ہی تحریک انصاف کے اراکین سینٹ نے پوائنٹ آف آرڈر پر سابق خاتون اول بشری بی بی کی صحت پر بات کرنے کی اجازت طلب کی تاہم اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور پی ٹی آئی ارکان نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔

ڈپٹی سپیکر کی یقین دہانی پر اجلاس کی کارروائی آگے بڑھائی گئی تو جے یوآئی کے سینیٹر مولاناعطاء الرحمان نے خیبرپختونخواہ میں قتل ہونے والے جمعیت علمائے اسلام آباد کے صوبائی سرپرست مولانا محمدادریس کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی ۔

جس کے بعد انہوں نے اس قتل پر قرارداد مذمت پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔  قراردادمیں موقف اختیارکیا گیا کہ ملک کے نامور عالم دین سابق ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختون خوا اور جمیعت علماء اسلام کے صوبائی سر پرست و رکن مرکزی مجلس شوری شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کا قتل ایک بہیمانہ واردات ہے، قاتلوں کو فی الفور گرفتارکرکے کیفر کردار تک پہنچا یاجائے۔

قرارداد کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے ایک مرتبہ پھر بات کرنے کی کوشش کی تو وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا اجلاس سے قبل اپوزیشن سے یہ طے ہواتھا کہ قراردادادیں پیش ہونے کے بعد انہیں بولنے کا موقع دیاجائے گا اور اب یہ معرکہ حق کے سلسلے میں قرارداد پیش ہونے دی جائے۔

جس پر پی ٹی آئی ارکان نے قراردادپیش ہونے دی۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی پر سول و ملٹری لیڈرشپ اور شہداء کو خراج تحسین پیش کی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان، پاکستان کی خود مختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے افواج پاکستان سیکیورٹی اداروں ، اور پوری پاکستانی قوم کی بے مثال قربانیوں، جرات اور عزم کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص" میں افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت ، ہر وقت حکمت محملی اور دشمن کے ناپاک عزائم کو نا کام بنانے پر انہیں سلام پیش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی " آپریشن سندور کو موٴثر انداز میں ناکام بنایا گیا اور دشمن کو واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خود مختاری او رقومی مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان وزیر اعظم محمد شہباز شریف اورصدرمملکت آصف علی زرداری کی مدبرانہ قیادت، قومی یکجہتی کے فروغ  اور عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو موٴثر انداز میں اجاگر کرنے کی کاوشوں کو سراہتا ہے۔

اس کے علاوہ قرارداد میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔

قرارداد کے متن میں لکھا گیا کہ یہ ایوان فیلڈ مارشل سید عالم منیر کی جرات مندانہ قیادت عسکری حکمت عملی ، اور ملکی دفاع کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، جنہوں نے افواج پاکستان کے مورال ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

یہ ایوان افواج پاکستان کے تمام شہدا اور غازیوں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہے، جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اسی طرح یہ ایوان ان معصوم شہریوں اور رسویلین شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہے جو دشمن کی جارحیت اور دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوئے ، اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

قرارداد کے متن میں لکھا گیا کہ یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان کے دفاع ، عالیت اور راستے کام پر کوئی سمجھو تہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید بر آں یہ ایوان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو اپنا کر دارا دا کرے اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرے۔

ایوان میں بیٹھے ہوئے تمام اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر اسے متفقہ طورپر منظورکرلیا۔

تحریک انصاف کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈرسینیٹرعلی ظفرنے کہا بشری بی بی کی صحت کے حوالے سے ہمیں کچھ نہیں بتایا جارہا، بشری بی بی کو قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، ان کو اسپتال لے جایا گیا اور پھر انہیں جیل واپس لے گئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں بتایاجائے کہ ان کا کیاعلاج ہواہے، ان کی ٹیسٹ رپورٹس ہمیں دی جائیں اور ان کی فیملی کی ملاقات ان سے کروائی جائے، اس کے علاوہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا وفد آج ہی جیل کا دورہ کرے بشری بی بی سے ملاقات کرے اور ایوان کو ان کی صحت کے بارے میں مطلع کرے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اگرہمارے یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے تو ہم ایوان کی کارروائی کا مزید حصہ نہیں بنیں گے اور بائیکاٹ کریں گے۔

ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اموراور مسلم لیگ ن کے سینیٹررانا ثناء اللہ نے کہا عمران خان اور بشری بی بی کو عدالتوں سے سزاہوئی ہے،ان کی کسٹڈی عدالت کے پاس ہے پہلے بھی یہ عدالت گئے تھے اور عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو عدالتی دوست مقرر کیاتھا،عدالتی دوست کی رپورٹ اور جیل سپرنٹنڈ کی رپورٹ ایک جیسی تھی،اب بھی اگریہ ملناچاہتے ہیں تو عدالت سے رجوع کریں۔

راناثناء اللہ کے جواب پر تحریک انصاف کے سینیٹرزنے ایوان سے بائیکاٹ کیا اور احتجاجا ایوان سے باہر نکل گئے۔

ایوان میں بری امام آپریشن پر بھی گرما گرم بحث ہوئی، شیری رحمان نے متاثرین کے لیے معاوضے اور متبادل رہائش کا مطالبہ کیا جبکہ طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری نے تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے موبائل فون پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہونے کا بھی عندیہ دیا۔ اجلاس کے اختتام پر کورم پورا نہ ہونے پر کارروائی آج بروزجمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔