سپریم کورٹ 80 بیوروکریٹس کی ترقیاں کالعدم آصف زرداری کے بہنوئی بھی شامل

ترقیوں کا عمل غیر شفاف ہے، سیاسی بنیادوں پر سول سرونٹس کو ترقیاں دینا غلط رجحان بن چکا ہے، سپریم کورٹ


Numainda Express October 04, 2013
49 کیسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، وفاقی حکومت کی عدالت کو یقین دہانی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کے دور میں80بیورو کریٹس کو دی جانے والی ترقیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ میرٹ پر ترقیاں دینے کے لیے از سر نو جائزہ لیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس چوہدری اعجاز احمد اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل فل بینچ نے پٹیشن پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ دوران سماعت وفاقی حکومت نے عدالت کو بتا یا تھا کہ49 کیسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ ترقیوں کا تمام عمل غیر شفاف اور غیرقانونی ہے، سیاسی بنیادوں پر سول سرونٹس کو ترقیاں دینا ایک غلط ٹرینڈ بن گیا ہے، اب اعلٰی افسران محنت اور اہلیت کی بجائے ترقیوں کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں جس سے حکومتی کارکردگی اور قانون کی حکمرانی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ سرکاری افسران اپنے کام کے دوران میرٹ کی بجائے فیصلوں کے لیے ان افراد کی طرف دیکھتے ہیں جن کی بدولت انھیں ترقیاں ملی ہوتی ہیں۔ یہ افسران اپنے محسنوں کو غیر ضروری طور پر نوازتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی کہ سول سرونٹس کو سیاسی دبائو سے آزاد کرانے اور ایماندار افسران کو ترقیاں دینے کے لیے ایک معیار مقرر کیا جائے۔



این این آئی کے مطابق عدالتی حکم میں کہا گیا کہ پروموشن بورڈ دوبارہ منعقد کرکے ترقیاں کی جائیں۔ آئی این پی کے مطابق ترقی پانے والوں میں سابق صدر آصف زرداری کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو بھی شامل تھے۔ آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ان افسران کی فہرست بھی جاری کردی جن کی ترقی کالعدم قرار دی گئی ہے۔دریں اثنا رکن قومی اسمبلی سمیر املک کیخلاف جعلی ڈگری کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ پوری قوم کی نمائندگی کرتی ہے، اگر ایک شخص دھوکہ دہی سے وہاں جا کر بیٹھ جائے گا تو اسکی ساکھ متاثر ہوگی، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں تعلیم کا معیار یہ ہو گیا ہے کہ لوگ پڑھے بغیر بھی امتحان پاس کر لیتے ہیں، مخالف امیدوار عمر اسلم کے وکیل حامد خان نے کہاکہ بی اے کے امتحان میں سمیرا ملک کی جگہ کوئی اورامیدوار بیٹھی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن یوسف ایوب کی کامیابی کا نوٹی فکیشن منسوخ کرنے سے روک دیا۔