وطن عزیز کیلیے بیٹے کی قربانی پر فخر محسوس کرتاہوں والد

راشد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے، ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، والد


Staff Reporter October 05, 2013
بیٹا گھر کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتا تھا، والد راشد۔ فوٹو : فائل

سائٹ ایریا میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار محمد راشد کے والد محمد ابوبکر نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا لیکن ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ۔

وہ وطن عزیز کے لیے اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر محسوس کرتے ہیں ، مقتول گھر کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتا تھا ، اورنگی ٹائون سیکٹر ساڑھے گیارہ میں اپنی رہائش گاہ پر ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا لیکن ان کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ، مقتول کی عمر 27 برس تھی ، اس موقع پر انتہائی آبدیدہ ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کا بیٹا ان کے جنازے کو کاندھا دیتا لیکن انھیں ہی اپنے جواں سال بیٹے کو کاندھا دینا پڑا ۔



مقتول کے بھائی شاہد نے ایکسپریس کو بتایا کہ راشد 4 بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا جبکہ گھر کی کفالت میں وہ اہم کردار ادا کرتا تھا ، اس کی تعیناتی خواجہ اجمیر نگری میں تھی ، بدھ کی شب وقوعہ کے روز سائٹ اے پولیس نے ہیڈ کوارٹرز سے اضافی نفری طلب کی تھی جس کی وجہ سے اسے بھی وہاں جانا پڑا ۔

شاہد نے مزید بتایا کہ وقوعہ کے وقت تمام نفری ٹرک میں بیٹھ چکی تھی جبکہ راشد اپنے ساتھی ابراہیم کے ساتھ موٹر سائیکل پر تھا کہ عقب سے آنیوالے موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی، دونوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں راشد چند گھنٹے موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد رات گئے خالق حقیقی سے جاملا ، اسے 3 گولیاں لگیں جن میں سے جگر پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی،مقتول کا سوئم اتوار کو رہائش گاہ پر ہوگا۔