ڈی ایچ اے میں رفاہی پلاٹوں پر2تعمیراتی منصوبوں کیخلاف حکم امتناع

آئندہ سماعت تک عدالت کو بتایا جائے کہ مذکورہ اراضی رفاہی مقاصد کیلیے مختص ہے یا نہیں۔عدالت


Staff Reporter October 05, 2013
عدالت نے مدعا علیہان کو ہدایت کی آئندہ سماعت تک تعمیرات روک دی جائیں فوٹو:فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے فیزVIIIمیں جاری 2 تعمیراتی منصوبوں کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ''کریک ٹیرسز ''اور '' کریک ویو'' کی تعمیرات روکنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ڈی ایچ اے کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک عدالت کو بتایا جائے کہ مذکورہ اراضی رفاہی مقاصد کیلیے مختص ہے یا نہیں،جسٹس سید حسن اظہررضوی پر مشتمل سنگل بینچ نے ڈی ایچ اے کے رہائشی زاہد اللہ خان کی درخواست کی سماعت کی،درخواست میں ڈی ایچ اے،کریک ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ، بی ایف پراپرٹی اینڈکنسٹرکشن پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور اے کے ڈی کیپٹل لمیٹڈ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی ایچ اے نے رفاہی مقاصد کے لیے مختص کی گئی زمین پر رہائشی اور کمرشل تعمیراتی منصوبوں کیلیے اکتوبر 2004میں ''کریک ٹیرسز''اور ''کریک ویو'' کیلیے بولیاں طلب کی تھیں جس میں 25ایکڑ اراضی ''کریک ٹیرسز'' اور 18 ایکڑاراضی ''کریک ویو''کیلیے مختص کی گئی تھی

جبکہ ڈی ایچ اے اصل ماسٹر پلان کے تحت یہ اراضی رفاہی مقاصد کیلیے مختص تھی جن میں، پارکس ، اسکول، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور قبرستان شامل ہے،درخواست میں کہا گیا ہے طے شدہ قوانین کے مطابق رفاہی اراضی پر تجارتی یا رہائشی منصوبہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ زمین کسی کو الاٹ کی جاسکتی ہے، درخواست میں بعض عدالتی فیصلوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالتوں نے بھی قراردیاہے کہ رفاہی زمین کسی اور مقصد کیلیے استعمال نہیں کی جاسکتی،جمعہ کو سماعت کے موقع پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹرصلاح الدین نے عدالت کو بتایا کہ فاضل عدالت نے گزشتہ سماعت پر حکم امتناع جاری کیا تھا تاہم مدعا علیہان کی جانب سے تعمیراتی کام جاری ہے، عدالت نے مدعا علیہان کو ہدایت کی آئندہ سماعت تک تعمیرات روک دی جائیں، عدالت نے 9اکتوبر کیلیے سماعت ملتوی کردی ۔