2014 سوچی ونٹر اولمپکس تنازعات کی لپیٹ میں آنے لگے

میزبان شہر میں کام کرنے والے سیکڑوں تارکین وطن مزدوروں کوحراست میں لے لیا گیا


Sports Desk October 06, 2013
ورکرز کو ستمبر کے اوائل میں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

2014 کے سوچی ونٹر اولمپکس بھی تنازعات کی لپیٹ میں آنے لگے، میزبان شہر میں کام کرنے والے سیکڑوں تارکین وطن مزدوروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کو ستمبر کے اوائل میں کام کی جگہوں ، گھروں اور عوامی مقامات سے گرفتار کیا گیا، یہ مزدور فروری میں شروع ہونے والے گیمز کے وینیوز اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر کام کررہے تھے۔ زیادہ تر افراد کو ترک وطن یا ملازمت قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے تحت حراست میں لیا گیا، بیشتر کوکچھ گھنٹوں بعد چھوڑ دیا گیا لیکن چند کو ایک ہفتے سے زائد حراست میں رکھا گیا، بعض معاملات میں انھیں کسی بھی وکیل سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ وزارت داخلہ یا ریجنل گورنر کے دفتر سے کوئی بھی شخص فوری طور پر تبصرے کیلیے موجود نہیں تھا۔ ایک وکیل اور سیل فون پر بنائی گئی ویڈیو کے ساتھ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ40 سے 50 افراد کو ایک پولیس اسٹیشن کے احاطے میں عارضی طور پر تیار ایک شیڈ میں رکھا گیا، مگر پولیس اس کی تردید کررہی ہے۔



حراست میں لیے گئے چند افراد نے کہاکہ انھیں وہاں کئی روز سے رکھا گیا ہے، جبکہ چند نے بتایاکہ انھیں نہ تو خوراک، سونے کی جگہ یا بارش اور سردی سے بچنے کیلیے مناسب جگہ فراہم کی گئی۔ ورکرز کو ستمبر کے اوائل میں چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، یہ کارروائی انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی فائنل انسپیکشن کے دوران بھی جاری رہی ۔ ایچ آر ڈبلیو نے اپنے یورپ اور وسطی ایشیا کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جین بوچانن کے حوالے سے بتایاکہ یہ توہین آمیز سلوک انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے انسپیکشن کے دوران بھی جاری رہا، اس کے باوجود اس نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے بیان پر سماجی کارکنوں اور کرملن مخالفین نے سوچی گیمز کی تیاریوں پر خدشات کا اظہار کردیا ہے۔ آئی او سی سوچی کوآرڈینیشن کمیٹی کے سربراہ جین کلاڈی کلے نے گذشتہ ہفتے انسپیکشن وزٹ کے دوران تیاریوں پر ایک مثبت تجزیہ دیا تھا ۔