مویشی منڈی داخلی دروازوں پر ویٹرنری ڈاکٹرزتعینات کرنے کا حکم

ہزاروں جانور کراچی لائے جارہے ہیں،ایک ڈاکٹر ان کا تفصیلی معائنہ نہیں کرسکتا، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ


Staff Reporter October 09, 2013
جانوروں کی آمد پر فیس وصول کرنے اور ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے،فوٹو:فائل

QUETTA:

سندھ ہائیکورٹ نے مویشی منڈیوں کے داخلی راستوں پر10ویٹرنری ڈاکٹرز کی تعیناتی کی ہدایت کی ہے۔


یہ ہدایت مدعی صاحب ڈنو کے دیوانی دعوے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل سنگل بینچ نے جاری کی، مدعی نے کمشنر کراچی اور حکومت سندھ کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاتھاکہ کمشنر آفس نے اسے قربانی کیلیے کراچی کی منڈی میں آمد کے موقع پر فیس وصول کرنے کا ٹھیکہ دیا تھا، مدعی کے مطابق یہ ٹھیکہ ایک سال کیلیے تھا اور اس کی مدت جولائی2014تک ہے لیکن کمشنر آفس نے اسے نوٹس جاری کرکے اچانک جانوروں پر فیس وصول کرنے اور ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے روک دیا۔


اس نے موقف اختیارکیاکہ کمشنر آفس کا جاری کردہ نوٹس غیر قانونی ہے، عدالت قرار دے کہ اس نوٹس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ حامد الرحمن نے عدالت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی فیس کا معاملہ مالی ہے لیکن عیدالاضحی کے موقع پر ملک بھر سے کراچی میں جانوروں کی بے تحاشا آمد سے انسانی جانوںکو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، انھوں نے موقف اختیارکیا کہ یہ ٹھیکیدار مویشیوں کا درست طریقے سے طبی معائنہ نہیں کراتے، ان کے پاس مناسب وسائل بھی نہیں ہوتے۔


فاضل بینچ نے ٹھیکیدار صاحب ڈنو سے استفسار کیا کہ ایک داخلی راستے پر ایک وقت میں کتنے ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں، ٹھیکیدار نے بتایاکہ ایک ڈاکٹر تمام جانوروںکا معائنہ کرتا ہے ، حکومت سندھ کے وکیل حامد الرحمن نے موقف اختیارکیا کہ عید کے موقع پر ایک دن میں سیکڑوں ہزاروں جانور کراچی آتے ہیں اور یہ دن رات آتے رہتے ہیں۔



ایک ڈاکٹر ان کا تفصیلی معائنہ نہیں کرسکتا اور جو ڈاکٹر وہاں موجود ہے وہ صرف بھینسوں کا ڈاکٹر ہے، اطلاعات یہ ہیں کہ کراچی میں جانوروں کے ذریعے آنیوالاکانگو وائرس موجود ہے اور گزشتہ دنوں اس کی وجہ سے ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں اس لیے کراچی آنیوالے مویشیوں کے تفصیلی طبی معائنے کیلیے ایک داخلی راستے پر کم سے کم 10 ڈاکٹر ہونے چاہئیں، فاضل بینچ نے ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ وہ ایک داخلی راستے پر 10 ڈاکٹرز تعینات کرے۔


ٹھیکیدار نے عدالت کی ہدایت پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کمشنر آفس کی جانب سے ٹھیکہ منسوخ کیے جانے کے عمل کو غیر قانونی قراردینے کی استدعا کی،ادھر ماہر حیوانیات کا کہنا ہے کہ کانگوبخارایک وائرس کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہے جو اونٹ، گائے، بھیڑ، بکریوں وغیرہ کی جلد پر پانے جانے والے چیچڑوں (ٹس ) پیسوکے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، پسو(چیچڑ) جانور کی کھال سے چپک کرجانور کا خون چوستا رہتا ہے لہٰذاقربانی کا جانورخریدتے وقت اچھی طرح دیکھ کرخریدا جائے، جا نوروںکوخریدتے وقت منہ اور کھرکوضرور چیک کیاجائے،سست جانور، ناک سے پانی بہنے والا جانور نہ خریدا جائے۔