پاکستانی موٹرسائیکل صنعت 100 فیصد مقامی پیداوار کے قریب

بنگلہ دیش اورسری لنکا کے بعد ایران وجنوبی افریقی منڈیوں تک رسائی کی کوشش


Business Reporter October 09, 2013
پاکستان میں وقت کے ساتھ 70سی سی موٹرسائیکل کی طلب میں کمی جبکہ 100اور 125 سی سی موٹرسائیکلوں کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کی موٹر سائیکل صنعت نے 100 فیصد مقامی پیداوار کے قریب ہدف حاصل کرلیا ہے جس سے نہ صرف قیمتوں کو خطے میں دیگر ممالک کی نسبت ایک مناسب سطح پر رکھنے میں مدد ملی ہے بلکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی بیرونی منڈیوں تک رسائی بھی حاصل ہوئی ہے جبکہ جنوبی افریقہ اور ایران کی منڈیوں میں بھی موٹر سائیکل برآمد کرنے کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔

اٹلس ہنڈا لمیٹڈ کے جنرل منیجر ریسرچ و ڈیولپمنٹ آفاق احمد نے کے مطابق پاکستان میں موٹر سائیکل کی صنعت اپنے آپ کو صارفین کے رویے میں رحجانات کی تبدیلی کے مطابق ڈھال رہی ہے، پاکستان میں وقت کے ساتھ 70سی سی موٹرسائیکل کی طلب میں کمی جبکہ 100اور 125 سی سی موٹرسائیکلوں کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں فی کس آمدن 3 ہزار ڈالر عبور ہونے کے بعد 250اور اس سے زائد طاقت کی پرتعیش موٹرسائیکلوں کی مارکیٹ کو وسعت حاصل ہوگی،گزشتہ سال 100 سی سی سے اوپر کے حصے میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ 70 سی سی کی جانب صارفین کے رحجان میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، صنعت میں حقیقی تبدیلی پاکستان میں حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ رونما ہوئی جو سال 2000-01 میں 1لاکھ موٹر سائیکل سالانہ سے بڑھ کر موجودہ 20لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔



انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ملک میں 15لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں تیار کیے گئیں تھی جن میں زیادہ تر 70سی سی انجن والی موٹر سائیکلوں کی تھی،100 سی سی اور 125سی سی کے رحجان میں بالترتیب 34 اور 20 فی صد اضافے کا رحجان پایا گیا جبکہ بہت زیادہ مقبول 70سی سی کی پیداوار میں 10فیصد کمی آئی۔ انہوںنے کہا کہ جب فی کس آمدنی3ہزار ڈالر کی رکاوٹ کو عبور کرلے گی تو پاکستان کی آٹو مارکیٹ کو صارف کے رویے میں تبدیلی کا سامنا ہوگا جو 250 سی سی سے اوپر پرتعیش موٹر سائیکل خریدنا اور اسکوٹیز و اسی طرح کی دیگر بھاری موٹر سائیکلیں خریدنا پسند کریں گے۔ ہونڈا جاپان نے حال ہی میں پاکستان کو70سی سی کی ٹیکنالوجی میں اس خطے کا مرکزی ملک قرار دیا ہے۔ پاکستان میں موٹرسائیکل اسمبلنگ 1964 میں شروع ہوئی اور اب ملک میں موٹر سائیکل اسمبل کرنے والوں کی تعداد 100کے قریب ہے۔