برآمدکنندگان کا آٹو میٹیڈ سیلز ٹیکس ای ریفنڈ فاسٹر کی سست کارکردگی پر اظہار تشویش

جب تک ایف بی آرتحریری طور پر منظوری نہ دے ایکسپورٹرز کو ان کے ریفنڈ کلیمز کریڈیٹ نہیں کرسکتے، ایس بی پی


Staff Reporter October 15, 2019
جب تک ایف بی آرتحریری طور پر منظوری نہ دے ایکسپورٹرز کو ان کے ریفنڈ کلیمز کریڈیٹ نہیں کرسکتے، ایس بی پی۔ فوٹو: فائل

ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان نے سیلز ٹیکس ریفنڈز کے کلیمز کی ادائیگی کے لیے متعارف کرائے گئے آٹومیٹیڈ سیلز ٹیکس ای ریفنڈ (فاسٹر) کی سست کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آراپنے فاسٹرسسٹم کے ذریعے ایکسپورٹرز کو تیز رفتار ریفنڈز کی ادائیگی کے دعوے میں ناکام ہوگیا ہے۔

ایکسپورٹرزکو ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز داخل کرنے کے 72 گھنٹوں میں ادائیگیوں کا دعوی محض دعوی ثابت ہوا کیونکہ کئی سو گھنٹے گزر جانے کے باوجود ایکسپورٹرز کو ادائیگیاں نہیں ہوپارہی ہیں۔

پاکستان ایپرل فورم کے چئیرمین جاوید بلوانی، پی ایچ ایم اے کے چیئرمین چوہدری سلامت علی، چئیرمین سدرن زون اسلم احمد کارساز ودیگرعہدیداروں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے منظور شدہ ریفنڈ پے منٹ آرڈرز کے تحت سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کیا گیا تو جواب موصول ہوا کہ جب تک ایف بی آرتحریری طور پر منظوری نہ دے ایکسپورٹرز کو ان کے ریفنڈ کلیمز کریڈیٹ نہیں کرسکتے۔

اگر اسی طرح سیلز ٹیکس ریفنڈز حکومت کے پاس پھنس گئے تو پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثرہونگی اور برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے سے صنعتیں بند ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔