مسعود جنجوعہ لاپتہ کیس مشرف کا بیان جمع 11 فوجی افسروں کے بیانات لینے کا حکم

میجرجنرل نعیم نے مسعود جنجوعہ کی ہلاکت کا بیان جمع کرایا تھا، 8 سابق فوجی افسروں، ملک قیوم نے بیانات جمع نہیں کرائے


Numainda Express October 11, 2013
مسعودجنجوعہ کے والد کا شماردوستوں میں ہوتاہے،دشمنی نہیں کہ لاپتہ کراتا ، سابق صدر۔ فوٹو: فائل

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے لاپتہ مسعود جنجوعہ کے بارے میں بیان حلفی سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرکے ذریعے جمع بیان میں کہا گیا ہے کہ مسعود جنجوعہ کے والد لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ علی محمدکی درخواست موصول ہوئی تھی جس پرانھوںنے ملٹری سیکریٹری کو ہدایات دیں کہ مسعود جنجوعہ کے خاندان کی مدد کی جائے لیکن تمام ترکوششوں کے باوجودان کا پتہ نہیں چل سکا ۔لاپتہ افرادکیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کو بتایا کہ جن11افرادکے بیان حلفی طلب کیے گئے تھے۔ان میں سے 6 افرادکے بارے میں معلومات افشاکرناخطرے سے خالی نہیں اس لیے وہ وزارت دفاع کے ذریعے طلب کیے جائیں ۔سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوہدایت کی کہ ان افرادکے خود بیانات حلفی حاصل کریں اور سیکریٹری دفاع سے ان کی تصدیق کرائیں اور ان بیانات حلفی پر سیکریٹری دفاع کی مہرہونی چاہیے۔

آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے اس کیس میں حساس اداروںکے افسران کی جانب سے بیانات حلفی جمع نہ کرانے پربرہمی کااظہارکیا اورکہاکہ اٹارنی جنرل ان تمام افسران کواپنے دفتر بلالیں اورسب سے بیانات حلفی لیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرنے بتایاکہ دوتین افسران ملک سے باہرہیں جبکہ بقیہ افسران وزارت دفاع کے تحت خفیہ کیڈرسے تعلق رکھتے ہیں، ان سے بیانات حلفی لینے کے لیے وزرارت دفاع سے رابطہ کررکھا ہے ۔عدالت نے کہاکہ صرف مشرف کابیان حلفی نہیں سب افسران کے بیانات حلفی 10 روزمیں حاصل کرکے دیے جائیں تاکہ ان پرباقاعدہ جرح کے لیے شیڈول جاری کرسکیں۔



عدالت نے مقدمے کی سماعت 10 روزکے لیے ملتوی کردی ۔پرویزمشرف نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ مسعود جنجوعہ کے والدکا شماران کے دوستوں میں ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب پہلی بار معاملہ سامنے آیا تو انھوں نے حساس اداروں سے رپورٹ مانگی جس پر بتایا گیاکہ ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔واضح رہے سپریم کورٹ نے اس کیس میں پرویز مشرف سمیت 11 افراد سے بیانات حلفی طلب کیے تھے۔ میجر جنرل(ر) نعیم کا بیان حلفی بھی جمع کرایا جاچکا ہے جس میں انھوں نے کہا تھاکہ مسعود جنجوعہ جنوبی وزیرستان میں مارے گئے تھے۔سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم ،سابق سیکریٹری داخلہ کمال شاہ، بریگیڈیئر(ر) جاوید اقبال لودھی، بریگیڈیئر(ر) جاوید اقبال چیمہ، لیفٹیننٹ جنرل(ر) ندیم تاج، لیفٹیننٹ جنرل(ر) شفقات احمد،سابق سیکرٹری دفاع بریگیڈیئر(ر) منصور سمیت9 افراد نے بھی بیانات حلفی جمع نہیں کرائے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاپتہ خیرالرحمان کے مقدمے میں پولیس رپورٹ پرعدم اطمینان کیااورآئی جی خیبرپختونخواکوطلب کرلیا۔ عدالت نے ملتان سے لاپتہ غلام سجاد امجدکی بازیابی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ راولپنڈی سے لاپتہ عماد عامرکے معاملے میں وفاقی اورپنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے ۔عماد عامرکیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے بتایا پولیس پر الزام ہے کہ گھر سے حراست میں لیا ،ان کے ساتھ اسلام آباد پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص بھی تھا۔