اعصام الحق کی اے ٹی پی چیلنجر ورکشاپ میں شرکت

آسٹریلیا ، جاپان، ترکی، جنوبی افریقہ ، بھارت ، ازبکستان ، جنوبی کوریا ، روس اور میزبان چین کے نمائندے بھی شامل تھے


Sports Desk October 12, 2013
پاکستان میں کوئی مضبوط ٹینس ایسوسی ایشن یا اسٹرکچر نہیں ہے، اسٹار پلیئر کا خطاب. فوٹو : فائل

PESHAWAR: ٹینس پلیئرز نے ٹورنامنٹس کے بہتر اسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا ہے، بھارتی روہن بوپنا، سومدیو دیو ورمن، پاکستانی اعصام الحق، فرانس کے گائلز سیمون اور برازیلین مارسیلو میلو نے شنگھائی ماسٹرز کے موقع پر ایک روزہ خصوصی اے ٹی پی چیلنجر ورکشاپ میں شرکت کی۔

اس میں آسٹریلیا ، جاپان، ترکی، جنوبی افریقہ ، بھارت ، ازبکستان ، جنوبی کوریا ، روس اور میزبان چین کے نمائندے بھی شامل تھے۔ اے ٹی پی نے پہلے ہی 2014 کے دوران 30 ایونٹس کے ایک کیلنڈر کی رونمائی کی اور آپریٹرز مشترکہ طور پر اس پر عملدرآمد کی کوشش کررہے ہیں تاکہ دنیا بھر کے اُبھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو فائدہ اور شرکت کا موقع فراہم کیا جاسکے۔ آئندہ برس آسٹریلیا میں 5 چیلنجرز، بھارتی شہر چنئی میں 2 اور دبئی ممکنہ طور پر ایک مقابلے کا اہتمام کرے گا۔اعصام الحق نے کہا کہ پاکستان میں کوئی مضبوط ٹینس ایسوسی ایشن یا پلیئر اسٹرکچر نہیں ہے،اسی لیے مجھے ہمسایہ ممالک جیسے بھارت کا سہارا لینے پر مجبور ہونا پڑا، میں سمجھتا ہوں کے چیلنجرز ٹینس ٹور کیلیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔



دیو ورمن نے کہاکہ دنیا میں 151 چیلنجرز اور 700 فیوچرز ایونٹس منعقد ہوتے ہیں، ہمیں ان دونوں اسٹرکچرز میں کچھ باہمی ربط کی ضرورت ہے کیونکہ ایک پلیئر کیلیے دونوں اصولی تسلسل کیلیے اہمیت رکھتے ہیں، انھوں نے مزید کہا کہ یو ایس کالجیٹ اسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے میں اے ٹی پی ورلڈ ٹور میں مختلف راستے سے داخل ہوالیکن فیوچرز اور چیلنجرز ہی اس میں آنے کا صحیح راستہ ہیں۔ روہن بوپنا نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ چیلنجرز پلیئرز کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتے ہیں، دنیا کے زیادہ تر ٹاپ پلیئرز نے انہی سے کیریئر کاآغاز کیا تھا، اب آنے والے کھلاڑیوں کیلیے بہتر اسٹرکچر کا موجود ہونا ضروری ہے۔ یورپ میں چیلنجرز کھیلنے کو فوقیت دینے والے سیمون نے کہاکہ انھیں ایشین ٹورنامنٹس میں اس وقت شرکت سے کوئی مضائقہ نہیں جب وہاں کارکردگی دکھانے کا موقع ملے، سیمون کہتے ہیں کہ پلیئرز خصوصاً18یا19 برس کے کھلاڑیوں کیلیے چیلنجرز کا حصہ بننا اہمیت رکھتا ہے، کم از کم 98 فیصد پلیئرز اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کیلیے انہی ایونٹس کو فوقیت دیتے ہیں، باہر سے یہ چھوٹے نظر آسکتے ہیں لیکن جب رینکنگ سسٹم پر نظر ڈالی جائے تو چیلنجرز اہم اور آگے بڑھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔