نیشنل ٹریڈ کوریڈور امپروومنٹ پروگرام عدم توجہی کا شکار

2005 میں متعارف کرائے گئے منصوبے کیلیے سابق حکومت بھی وقت نہ نکال سکی تھی


Business Reporter October 13, 2013
تجارت کے لیے سہولتوں کی فراہمی سے پاکستان کو سالانہ 1.3ارب ڈالر کی آمدن کا اندازہ بھی لگایا گیا۔ فوٹو: فائل

علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے تجارتی گزرگاہ کی حیثیت سے اپنے محل وقوع کا فائدہ اٹھانے کا قومی منصوبہ ''نیشنل ٹریڈ کوریڈور امپروومنٹ پروگرام'' سابقہ حکومت کے دور میں منجمد رہنے کے بعد موجودہ حکومت کی بھی توجہ حاصل نہ کرسکا۔

2005میں متعارف کرائے گئے اس پروگرام کے تحت پانچ سالہ منصوبے کے لیے 2010 تک بیشتر اہم اہداف مقرر کیے گئے تاہم سیاسی، توانائی اور سیکیورٹی کے مسائل میں الجھی ہوئی لیڈرشپ اس منصوبے کی اہمیت کے باوجود اس پر عمل درآمد کے لیے وقت نہ نکال سکی۔ منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے اس قومی منصوبے کو پاکستانی برآمدات میں بھرپور اضافے کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس وقت کے اندازے کے مطابق پروگرام پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستانی برآمدات 2030تک 200سے 250ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد چین اور بھارت کی دو بڑی منڈیوں کے ساتھ ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی گزرگاہ کی حیثیت سے معاشی فوائد سمیٹنا تھا جس کیلیے روڈ انفرااسٹرکچر اور ہائی ویز کی ترقی کے ساتھ بندرگاہوں کی کارکردگی کو وقت اور لاگت کے لحاظ سے بہتر بنانے، ریل نیٹ ورک کی سہولت کا دائرہ صنعتی شہروں تک وسیع کرنے ریل کے ذریعے تجارتی سامان کی تیز رفتاری سے نقل و حرکت، سرحدوں تک جنکشن کی تعمیر اور ریل کے نظام کو بندرگاہوں سے منسلک کرنے، ٹرکوں کے بیڑے اور ایوی ایشن اینڈ ایئر ٹرانسپورٹ فلیٹ کو جدید بنانے کیلیے جامع حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے اہداف مقرر کیے گئے تھے۔



اس منصوبے کے پہلے پانچ سے چھ سال کے لیے 6ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں صرف ہائی ویز کے نظام کو بہتر بنانے سے سالانہ 2ارب ڈالر کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا، اسی طرح ریلوے کے نظام کی بہتری سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی قومی بچت کا تخمینہ لگایا گیا اور بندرگاہوں کی کارکردگی کو بہتر بناکر 450ملین ڈالر سالانہ کی بچت کا اندازہ لگایا گیا تھا تجارت کے لیے سہولتوں کی فراہمی سے پاکستان کو سالانہ 1.3ارب ڈالر کی آمدن کا اندازہ بھی لگایا گیا تھا منصوبے کے ذریعے ویئرہائسنگ، شپنگ اور انوینٹری کنٹرول کے موثر نظام کے ذریعے پاکستانی صنعت کے لاجسٹک پر اٹھنے والے اخراجات میں سالانہ 7ارب ڈالر کمی کا بھی اندازہ لگایا گیا تھا تاہم یہ تمام اندازے قومی منصوبوں کو سردخانوں کی نظر کیے جانے کی روایت کا شکار ہوگئے۔

پاکستان اپنے بہترین محل وقوع کے باوجود علاقائی تجارت میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے پاکستانی صنعتوں کی درآمدات اور برآمدات کی فیکٹریوں مارکیٹ اور بندرگاہوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ وقت اور بھاری لاگت ہیں۔ پاکستان کا 95فیصد نیشنل کارگو ٹرکوں کے ذریعے فیکٹریوں سے بندرگاہ یا مارکیٹ اور بندرگاہ سے فیکٹریوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے بندرگاہ تک سامان کی ترسیل میں 4سے 6روز لگ رہے ہیں جو مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں دگنے سے زائد وقت ہے، ٹرک انڈسٹری غیرمنظم ہونے کی وجہ سے انڈسٹری کے ساتھ ٹرک مالکان اور ٹرانسپورٹرز کیلیے بھی مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے جس میں پرانے اور متروک گاڑیوں کے استعمال کی وجہ سے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔