ٹیکسٹائل سیکٹرکی حکومت سے ریفنڈزنظام تیز کرنے کی اپیل

ریفنڈزکی مد میں بڑی رقم پھنسنے کے باعث صنعت کوسرمائے کی قلت کا سامنا ہے


Business Reporter October 14, 2013
پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بڑی نقد رقم سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں پھنسی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو تیز تر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ اقدام کے نتیجے میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی صنعتیں اپنی 100 فیصد استعداد پر پیداواری سرگرمیوں کر کے برآمدات میں ریکارڈ نوعیت کے اضافے کے قابل ہوجائیں گی۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بڑی نقد رقم سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں پھنسی ہوئی ہے جس سے انڈسٹری کو لیکویڈٹی کرنچ کا سامنا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ صرف 1.5فیصد ہے جس میں اضافے کا بھرپور امکان ہے۔



2012 میں ٹیکسٹائل برآمدات13 ارب ڈالر رہیں جبکہ جنوری 2014 میں جی ایس پی پلس کی سہولت ملنے سے ٹیکسٹائل برآمدات 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جس کے حصول کے لیے حکومت کو ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو تیز تر بنانا ہوگا۔