بھارت کشمیرپراقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی نہ کرےپاکستان

بھارتی قیادت تسلسل سے کشمیر کواٹوٹ انگ قرار دے رہی ہے،حقائق اس کے برعکس ہیں


Numainda Express October 22, 2013
پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی مسئلہ کشمیرہے جوکئی دہائیوں سے حل طلب ہے۔ترجمان دفترخارجہ۔ فوٹو: فائل

ترجمان دفترخارجہ اعزاز احمدچوہدری نے کہاہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی مسئلہ کشمیرہے جوکئی دہائیوں سے حل طلب ہے۔

بھارتی قیادت تسلسل کیساتھ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہی ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پیرکوبھارتی وزیر خارجہ کے کشمیر کے بارے میں بیان پر اپنے ردعمل میں ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ بھارت کو اقوام متحدہ کا رکن ہونے کے ناطے مسئلہ کشمیرپر سلامتی کونسل کی قراردادوں سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے،دونوں ممالک کے مابین جامع مذاکراتی عمل میں مسئلہ کشمیر بنیادی نکتہ ہے اوراس مسئلہ کے حل سے ہی خطے میں امن و سلامتی ممکن ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت سے تعمیری،بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کاخواہش مند ہے۔



منفی پروپیگنڈے سے گریز اور مثبت ماحول برقرار رکھنے کیلیے سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ترجمان نے کہاکہ گوکہ دوطرفہ معاہدے ختم ہو سکتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی قراردادیں تبدیل نہیں ہو سکتیں،بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیرپر مسلسل ہٹ دھرمی غیر سودمند اور اس مسئلہ کے حل کیلیے کی جانیوالی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ ہے۔