توہین عدالت کے الزام میں بینکنگ کورٹ کے سربراہ کو نوٹس ناظر کی طلبی

بینکنگ کورٹ نے صوبائی وزیر کے دبائو پر ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجودبنگلے کی دستاویزات انکی والدہ کے حوالے کردیں۔


Staff Reporter September 02, 2012
بینکنگ کورٹ نے صوبائی وزیر کے دبائو پر ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجودبنگلے کی دستاویزات انکی والدہ کے حوالے کردیں،درخواستگزار۔ فوٹو: فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے توہین عدالت کے الزام میں بینکنگ کورٹ کے سربراہ کو نوٹس اور بینکنگ کورٹ کے ناظر کو ذاتی طور پر 5ستمبرکو پیش ہونے کا حکم دیا ہے ، فاضل بینچ نے دونوں افسران کو آئندہ سماعت پر الزام کا جواب بھی داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یاور قادرنامی شخص نے خواجہ شمس الاسلام ایڈووکیٹ کے توسط سے توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے کہ بینکنگ کورٹ نے صوبائی وزیرقانون ایاز سومرو کے دبائو پر انکی والدہ کے حق میں بنگلہ نمبر 91-B/III ڈیفنس فیز فائیو کی ڈگری جاری کردی اور سندھ ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجود اس بنگلے کی دستاویزات بھی انکی والدہ کے حوالے کردیں ،خواجہ شمس الاسلام اور محسن شاہوانی ایڈووکیٹس نے توہین عدالت کی درخواست میں موقف اختیارکیا کہ مذکورہ بنگلے کی نیلامی کا عمل بینکنگ کورٹ کے ناظر کی نگرانی میں 18جولائی کو ہوا، نیلامی میں کوئی اور شریک نہیں ہوا۔

درخواست گزار نے سوا دو کروڑ کی نیلامی دی اورقواعد کے مطابق ایک چوتھائی رقم جمع بھی کرادی ، ناظر نے بولی حتمی منظوری کے لیے عدالت میں پیش کی اس دوران درخواست گزار نے2اگست کو بقیہ رقم بھی جمع کرادی ، تاہم عدالت نے انکی بولی اس بنیاد پر منظور نہیں کی کہ بنگلے کی کم سے کم بولی 2کروڑ38لاکھ روپے طے کی گئی ہے ،درخواست گزار نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا لیکن 29اگست کو بینکنگ کورٹ نے درخواست گزار کو نوٹس جاری کیے بغیر اس بنگلے کی ڈگری 2کروڑ 38لاکھ روپے میں صوبائی وزیر کے دبائو پر انکی والدہ کے حق میں جاری کردی اور تین یوم میں بنگلے کا قبضہ بھی انھیں دینے کا حکم دیدیا جبکہ درخواست گزار بھی 2کروڑ 38لاکھ روپے ادا کرنے پر رضامند ہوچکا تھا لیکن عدالت نے انکی پیشکش مسترد کردی۔

درخواست گزار کے مطابق وہ بنگلے کی رقم جمع کراچکے تھے اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوںمیں قرار دے چکی ہے کہ جب کوئی بولی دہندہ رقم جمع کراچکے تو اس کا متعلقہ اشیاء پر کچھ استحقاق ہوجاتا ہے اس لیے کسی اور فریق کو بنگلہ دینے کا فیصلہ کرنے سے قبل درخواست گزار کو نوٹس جاری کیا جانا چاہیے تھا یا پھر نیلامی دوبارہ کی جاتی ،خواجہ شمس الاسلام کے مطابق جب انھیں جمعہ کو یہ اطلاع ملی تو انھوں نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ، سندھ ہائیکور ٹ نے بینکنگ کورٹ کے 29 اگست کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری۔