واٹر بورڈ ٹیرف کے تعین کیلیے ریگولیٹری کمیشن قائم کیا جائے

موجودہ ٹیرف ادارے کو چلانے کیلیے نا کافی ہے،حکومت نئے ٹیرف مقرر کرے،ایم ڈی واٹر بورڈ۔


Staff Reporter September 02, 2012
موجودہ ٹیرف ادارے کو چلانے کیلیے نا کافی ہے،حکومت نئے ٹیرف مقرر کرے،ایم ڈی واٹر بورڈ۔ فوٹو: فائل

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید جو سائوتھ ایشیا یوٹیلیٹی نیٹ ورک کے صدر اور پاکستان واٹر آپریٹرز پارٹنر شپ کے بھی ممبر ہیں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان بھر میں پانی فراہم کرنیوالے تمام اداروں کے ٹیرف کے تعین کیلیے ایک ریگولیٹری کمیشن قائم کیا جائے جو پانی کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کا تعین کرکے ٹیرف نافذ کرے جیسا کہ توانائی کے ٹیرف کے تعین کیلیے نیپرا اور پٹرولیم مصنوعات کے ٹیرف کے تعین کیلیے اوگرا قائم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فراہمی آب کے تمام اداروں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ پانی کی فراہمی پر آنے والے اخراجات کا تعین کرکے ٹیرف حکومت کی جانب سے قائم کردہ ریگولیٹری کمیشن کو ارسال کریں جو اسی ٹیرف کو نافذ کرے، انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سیکریٹری خزانہ حکومت پاکستان کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کریں، انھوں نے کہا کہ کراچی واٹر بورڈ پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ فراہمی و نکاسی آب ہے جو200کلومیٹر کی مسافت سے کراچی کے شہریوں کو پمپنگ کے 3 مراحل سے گزار کر پانی فراہم کررہا ہے، اس میں پانی کی فیلٹریشن اور کلوریلیشن بھی شامل ہے جس پر بھاری اخراجات آرہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں بورڈ صارفین سے معمولی چارجز وصول کررہا ہے۔