لاپتہ افرادکیسمتعلقہ وزارتوں کوکمنٹس داخل کرنیکی ہدایت

اس بارے میں دائرہ کارکے حوالے سے آگاہ کیاجائے،سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ کی ہدایت.


Staff Reporter September 02, 2012
اس بارے میں دائرہ کارکے حوالے سے آگاہ کیاجائے،سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ افرادکے اہل خانہ کی دادرسی وبہبودکے بارے میں متعلقہ وفاقی وصوبائی وزارتوںکے کمنٹس داخل کرنے کی ہدایت کی ہے،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم اورجسٹس سیدفاروق شاہ پرمشتمل2رکنی بینچ نے یہ ہدایت نثاراے مجاہدایڈووکیٹ کے توسط سے دائردرخواست پرڈپٹی اٹارنی جنرل اورایڈووکیٹ جنرل سندھ کوجاری کی۔

دی ہیومن رائٹس اینڈسول لبرٹیزسوسائٹی آف پاکستان نے درخواست میں استدعاکی ہے کہ تمام لاپتہ افرادکے خاندانوںکی فوری مالی امدادکی جائے،درخواست میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ نائن الیون کے واقعے کے بعدامریکی حکام نے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کرالقاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں بہت سے پاکستانی شہریوںکو اٹھایا،جب ایسے شہریوںکے اہل خانہ نے عدالتوں سے رجوع کیاتوبھی ان شہریوںکونہ عدالتوں میں پیش کیا گیااورنہ ہی ان کے کوائف سے آگاہ کیاکہ وہ کہاں اورکس حال میں ہیں۔

نثاراے مجاہد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیارکیاکہ ایسے افرادکے اہل خانہ نہ صرف مالی مشکلات کاشکارہیں بلکہ وہ معاشرتی طورپربھی تنہائی کاشکارہوگئے ہیں،حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ لاپتہ افرادکے اہل خانہ کی مالی امدادکرے اوران خاندانوں کے بچوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرے ۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ میران شاہ محمدنے موقف اختیارکیا کہ حکومت کوایسی کو لسٹ نہیں ملی جس میں لاپتہ افرادکے اہل خانہ کی تفصیلات دی گئی ہوں اس لیے یہ ممکن نہیں کہ جواب دیاجاسکے کہ مختلف وزارتوں میں سے کون کس خاندان کی کیا مدد کررہی ہے۔

فاضل بینچ نے وفاقی وصوبائی حکومتوں کے نمائندوں کوہدایت کی کہ وہ متعلقہ وزارتوں سے رابطہ کرکے جواب داخل کریں کہ ان کا اس بارے میں کیا دائرہ کارہے اوراگر انھوں نے کسی کی مدد کی ہے تواس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔