بال ٹیمپرنگ کا جرم سب سے پہلی پابندی وقار یونس پر لگی

اظہرمحمود،ٹنڈولکر،شعیب اختر،ڈریوڈ،آفریدی اورایتھرٹن بھی سزاؤں کا شکار ہو چکے


AFP October 27, 2013
سری لنکا کے خلاف بال ٹیمپرنگ پر نہ صرف پچاس فیصد میچ فیس جرمانہ بلکہ انھیں ایک ون ڈے کیلیے معطل بھی کیا گیا، فوٹو: آن لائن /فائل

بال ٹیمپرنگ کے جرم میں سب سے پہلی پابندی فاسٹ بولر وقار یونس پر لگی، سچن ٹنڈولکر بھی اس تنازع میں الجھ چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے خلاف دبئی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کرکٹر فاف ڈوپلیسس بال ٹیمپرنگ پر پکڑے گئے جس پر انھیں صرف آدھی میچ فیس جرمانہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔ اس جرم میں مختلف کھلاڑی اب تک پابندی و جرمانے کی سزا بھگت چکے ہیں، سب سے پہلی سزا پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو ملی۔





کولمبو میں 2000 میں سری لنکا کے خلاف ٹرائنگولر سیریز میں بال ٹیمپرنگ پر نہ صرف پچاس فیصد میچ فیس جرمانہ ہوئی بلکہ انھیں ایک ون ڈے کیلیے معطل بھی کیا گیا، اظہر محمود 30فیصد جرمانے کا شکار ہوئے۔ بھارتی بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کو جنوبی افریقہ سے2001 کے پورٹ ایلزبتھ ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 75 فیصد میچ فیس کے ساتھ ایک ٹیسٹ کیلیے معطل بھی کیا گیا تھا۔



شعیب اختر کو 2003 میں سری لنکا کے خلاف ٹرائنگولر سیریز میچ میں ٹیمپرنگ پر 75 فیصد میچ فیس اور2 ون ڈے میچز سے معطلی کی سزا دی گئی تھی۔ راہول ڈریوڈ پر زمبابوے کے خلاف برسبین میں 2004 میں کھیلے گئے میچ میں اس حرکت پر 50 فیصد میچ فیس جرمانہ کیا گیا۔ شاہد آفریدی کو آسٹریلیا کے خلاف 2010 میں پرتھ میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں گیند چبانے پر 2 ٹوئنٹی 20 میچز کیلیے معطل کیا گیا۔





انگلینڈ کے مائیکل ایتھرٹن کو جنوبی افریقہ کیخلاف 2004 کے اوول ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ پر بورڈ کی جانب سے 2ہزار پائونڈ جرمانہ کیا گیا، میچ ریفری کی جانب سے فیصلے سے اختلاف پر بھی 30 فیصد میچ فیس جرمانہ کی گئی تھی۔