سول اسپتال میں طبی سہولتوں کا فقدان ہے مسلم لیگ ن

کچرہ اور آپریشن تھیٹر کا تمام فضلہ سرجیکل اور گائینی وارڈ کے کونے میں ڈھیر کر دیا جاتا ہے


Numainda Express October 28, 2013
اسپتال میں نکاسی آب کانظام بھی درست نہیں، پورا ماحول تعفن زدہ ہے،مقررین۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سندھ کا دوسرے بڑے شہر کا سرکاری ٹیچنگ اسپتال المعروف سول اسپتال مریضوں کے لیے شفاء خانے کے بجائے موت کے گھر کی صورت اختیار کرگیا ہے جہاں مریض ادویہ اور کلینکل ٹیسٹ کی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ اسپتال کا تمام بجٹ ہضم کر لیا جاتا ہے۔

یہ الزامات مسلم لیگ نون حیدرآباد سٹی کے اجلاس میں لگائے گئے جس میں حیدرآباد سٹی کے نائب صدر خالد سولنگی، جنرل سیکریٹری ملک تنویر سمیت دیگر عہدیداران شریک ہوئے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اسپتال میں صفائی کا یہ حال ہے کہ اسپتال کا تمام کچرہ اور آپریشن تھیٹر کا تمام فضلہ سرجیکل اور گائینی وارڈ کے کونے میں ڈھیر کر دیا جاتا ہے جبکہ اس جگہ کے ساتھ ہی برابر میں ڈاکٹرز کینٹین بھی ہے جس میں آنے جانے کا راستہ ان غلاظتوں کے ڈھیر کے ساتھ ہی ہے جس کے نتیجے میں مریضوں کو تیمارداروں اور ڈاکٹرز ان ڈھیروں سے گزرنا پڑتا ہے جبکہ اسپتال میں کام کرنے والا پیرا میڈیکل اسٹاف زیادہ ترغائب رہتاہے جو تنخواہ لیتے ہیں لیکن ڈیوٹی پر نہیں آتے اور اس کے عیوض وہ لوگ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ سرکاری عملداروں کو دیتے ہیں۔



اجلاس میں مزید کہا گیا کہ اسپتال میںنکاسی آب کانظام بھی درست نہیں ہے، نکاسی آب کی لائینیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں تو وہاں کے گٹر ڈھکنوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف وہاں کو پورا ماحول تعفن زدہ ہے ۔ اجلاس میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جس میں اپیل کی گئی کہ سول اسپتال کے انتظامیہ اور محکمہ صحت خدا کا خوف کھا کر سول اسپتال آنے والے مریضوں کی حالت پر رحم کھاتے ہوئے اسپتال کی حالت زار کو بہتر بنائیں اور لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کریں۔