ٹیلنٹ کے ساتھ سخت محنت بھی ضروری ہے مصباح الحق

کارکردگی میں عدم تسلسل ہی پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، قومی کپتان


Sports Desk October 28, 2013
تسلسل کیلیے کمٹمنٹ، سخت محنت اور بہتر رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ صرف ٹیلنٹ ہی نہیں سخت محنت بھی ضروری ہے، مستقل مزاجی سے پرفارم کرکے ہی میچز جیتے جاسکتے ہیں، اسد شفیق مستقبل میں کافی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ پاکستان کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں دوسرے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 92 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس سے قبل زمبابوے سے بھی دوسرا ٹیسٹ ہارنے کی وجہ سے سیریز 1-1 سے برابر ہوئی تھی۔ کارکردگی میں یہی عدم تسلسل ہی پاکستان ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس حوالے سے کپتان مصباح الحق کہتے ہیں کہ میرے خیال میں غیرمستقل مزاجی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ٹیلنٹ پر انحصار کرتے ہیں اور ٹیلنٹ ہمیں صرف ایک یا دو بار ہی جتوا سکتا ہے جبکہ تسلسل کیلیے آپ کو کمٹمنٹ، سخت محنت اور بہتر رویے کی ضرورت ہوتی ہے، ہمیں لازمی طور پر یہ بات قبول کرلینی چاہیے کہ ایک دو پرفارمنسز کے بعد ہم لوگ سہل پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔



ہمیں ذہنی طور پر خود کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، ہر اننگز نئی اننگز ہوتی ہے، اگر آپ ایک اننگز ڈبل سنچری اسکور کرتے ہیں تو ٹیم آپ سے اگلی اننگز میں بھی اسی کی توقع رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ ابوظبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں اوپنر خرم منظور نے 146 رنز بنائے مگر دبئی میں دونوں مرتبہ صفر پر آئوٹ ہوگئے تھے جبکہ شان مسعود بھی ڈیبیو اننگز کے بعد بہتر پرفارم نہیں کرپائے۔ دبئی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 130 رنز بنانے والے اسد شفیق کے بارے میں مصباح نے کہا کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس میں کافی بہتری آرہی ہے اور یہ ہمارے لیے اچھا بھی ہے کیونکہ جب آنے والے برسوں میں ، میں اور یونس خان ٹیم میں نہیں ہوں گے تب وہ پاکستان کو آگے لے کر چلنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہوگا۔