جسم کو بجلی پہنچا کر درد دور کرنے والی اسمارٹ پٹی متعارف

’کائلو‘ نامی پٹی میں لاتعداد نینو کیپیسٹر ہیں جو بایو اینٹینا کی طرح کام کرتے ہوئے بغیر کسی دوا کے درد دور کرتے ہیں


ویب ڈیسک December 06, 2019
کائلو اسمارٹ پٹی حیاتیاتی اینٹینا کی طرح کام کرتے ہوئے جسمانی برقیاتی سگنل سے درد کو روکنے کا کام کرتی ہے۔ فوٹو: انڈی گو گو ویب سائٹ

امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی نے جسمانی درد کا ایک انوکھا حل پیش کرتے ہوئے نینو ٹیکنالوجی پر مبنی ایک حیرت انگیز پٹی بنائی ہے جو جسمانی برقی نظام کے تحت کام کرتے ہوئے درد کی شدت کو دور کرتی ہے۔

اسے 'کائلو' کا نام دیا گیا ہے یہ اسمارٹ پٹی ہر قسم کے بیرونی درد دور کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ پٹی جسمانی برقی نظام سے ایک طرح سے رابطہ کرتی ہے اور اسی بنا پر تکلیف کو کم کرتی ہے۔ واضح رہے کہ اس چپک پٹی میں کسی قسم کی کوئی دوا نہیں لگائی گئی۔

انسانی جسم میں تقریباً ہر مقام پر برقی سگنل ہوتے ہیں۔ جسم کا ہر خلیہ (سیل) بھی برقی رو خارج کرتا ہے جبکہ دماغ پورے جسم کو برقی سگنل سے ہی کنٹرول کرتا ہے اسی طرح جسم میں درد کی شدت کی وجہ بھی برقی ہوتی ہے۔

کائلو میں نینو کیپیسٹر نصب ہیں اور یہ کسی اسٹیکر کی طرح جسم پر چپک کر بایو اینٹینا کی طرح کام کرتا ہے اور جسم کے برقی رو سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جسمانی اعصابی سگنل کے نظام کو محسوس کرتے ہی اس کی حرارت بڑھ جاتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایک بار جسمانی برقیاتی سگنل کا نظام درست ہوجائے تو ازخود درد کی شدت کم ہوجاتی ہے اور زندگی معمول پر آجاتی ہے۔



کائلو کی تیاری میں پانچ سال کی تحقیق اور انسانوں پر آزمائش شامل ہے اور اب یہ باقاعدہ لائسنس یافتہ مصنوعات کے درجے پرپہنچ چکی ہے تاہم درد کو دور کرنے کے لیے جسم پر اس کے مرکز کو جاننا ضروری ہے۔ عین درد والی جگہ پر لگ کر یہ جسمانی قدرتی سگلنل کی عین مطابقت میں آجاتی ہے۔


اگرچہ واٹر پروف کائلو پٹی کو ہفتوں تک لگایا جاسکتا ہے لیکن پٹی اترنے کے بعد بھی درد کی شدت بہت دنوں تک دبی رہتی ہے۔ بسا اوقات چند منٹ تک لگانے سے بھی گھنٹوں کا آرام مل سکتا ہے۔

یہ اہم ایجاد انٹرنیٹ کراؤڈ سورسنگ کے مرحلے میں ہے اور ایک اسٹیکر کی قیمت 120 ڈالر ہے۔