سوچی 2014 100 روزہ کاؤنٹ ڈاؤن شروع روس میں جشن

مرکزی بینک نے 100 روبلز کا ’اولمپک‘ نوٹ جاری کردیا


Sports Desk/AFP October 31, 2013
آرگنائزرز نے آئی او سی چیف کو اسٹاف اور والنٹیئرز کیلیے ڈیزائن کردہ لباس پیش کیا۔ فوٹو: فائل

سوچی گیمز کا 100 روزہ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، موقع کی مناسبت سے روس میں جشن کا سماں ہے، مرکزی بینک نے100 روبلزکا 'اولمپک' نوٹ جاری کردیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر اولمپک پارک میں 100 افراد کو '100' کا نشان بناتے ہوئے دکھایا گیا، ادھر روس نے آسٹریلیا کو سوچی میں سیکیورٹی مسائل نہ ہونے کی دوبارہ یقین دہائی کرائی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز روس کے ساحلی تفریحی شہر سوچی میں ونٹر اولمپک گیمز کا 100 روزہ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا، جشن کے موقع پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی چیف تھامس باخ نے ایک 'ناقابل فراموش' ایونٹ کا وعدہ کیا، آرگنائزرز نے انھیں ایونٹ کے اسٹاف اور والنٹیئرز کیلیے ڈیزائن کردہ لباس پیش کیا، ٹیلی ویژن پر سوچی اور دیگر شہروں میں اولمپک کاؤنٹ ڈاؤن گھڑیوں کے ارد گرد جمِ غفیر کو نعرے لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس موقع پر روس کے مرکزی بینک نے100 روبلز کے 'اولمپک' بینک نوٹ کی نمائش کی، اس میں بحر اسود کے ساحل پر واقع اولمپک پارک کے اوپر برفیلا بارڈر دکھایا گیا ہے۔



سرکاری ٹی وی نے اولمپک پارک میں 100 افراد کو اچھلتے کودتے اور کیمروں کے سامنے ہاتھ ہلاتے100 کا نشان بناتے ہوئے دکھایا ۔ منگل کے روز صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات اور سوچی اسٹیڈیمز کا دورہ کرنے والے آئی او سی پریذیڈنٹ تھامس باخ کا کہنا ہے کہ صرف 100 روز قبل سوچی 2014 وینیوز جاذب نظر دکھائی دے رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ 2014 کے اولمپئنز چند ناقابل فراموش یادوں کے ساتھ اپنے گھروں کو جائیں گے۔ ملکی سیاحوں کی وجہ سے مشہور روس کے سب سے بڑے تفریحی ساحلی شہر سوچی کو پیوٹن نے گیمز میزبان کے طور پر پیش کیا تھا، وہاں 6 برسوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، ہوٹلوں اور اسپورٹس وینیوز کی تیاریوں پر 50 بلین ڈالر سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ پروجیکٹ کو ماہر ماحولیات اور دائیں بازو کے اداروں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، انھوں نے حکومت کو تارکین وطن ورکرز کے واجبات کی عدم ادائیگی اور مقامی باشندوں کی ملکیتوں کا خیال نہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رواں برس سوچی کو دائیں بازو گروپس کے ہم جنس پرستوں نے بھی ہدف بنایا، ان میں سے چند نے پابندی کا نیا قانون بنانے کے خلاف گیمز کے بائیکاٹ کیلیے بھی کہا تھا۔ پیوٹن نے وعدہ کیا کہ گروہی یا جنسی تفریق کے بغیر سوچی تمام ایتھلیٹس اور مہمانوں کے لیے 'اطمینان بخش' ثابت ہوگا۔ دریں اثنا آسٹریلیا کی اولمپک ٹیم کو صدر پیوٹن کے اس وعدے کی دوبارہ یقین دہائی کرائی گئی جس میں ہم جنس پرست ایتھلیٹس کا آئندہ برس سوچی کے ونٹر گیمز میں استقبال کرنے کیلیے کہا گیا ہے۔

سڈنی میں کاؤنٹ ڈاؤن کے موقع پر چیف ڈی مشن ای ین چیسٹرمین نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہمیں ماضی میں بھی ممتاز روسی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے،اب صدر کی یقین دہانیوں کے بعد ہمارے ایتھلیٹس اطمینان سے گیمز میں شرکت اور اس سے محظوظ ہوسکیں گے۔ ناموافق سمر گیمز کی طرح آسٹریلیا کبھی ونٹر اولمپکس میں غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھا سکا، اسے 18 مقابلوں میں صرف 5 طلائی تمغے ہی ملے ہیں۔