بینظیر بھٹو نے جمہوریت کیلیے جان قربان کی تاج حیدر

سندھ رانی ایوارڈ اور فنکاروں کیساتھ تقریبات کا انعقاد احسن اقدام ہے، خطاب


Numainda Express November 01, 2013
بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کیلیے بڑی جدوجہد کی۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری اور وزیر اعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کیلیے بڑی جدوجہد کی اور آمریت کا مقابلہ کرتے ہوئے عوام کے حقوق کیلیے جان کی قربانی دی۔

ینگ رائٹرز فورم کی جانب سے سندھ کے مشہور فنکار بالق سندھی کے ساتھ شام منانے اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی شخصیات کو سندھ رانی ایوارڈ دینے کی تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ رانی ایوارڈ اچھا عمل اور فنکاروں کیساتھ اس قسم کی تقریبات کا انعقاد بھی بہترین قدم ہے، بھٹ شاہ سندھ کے ادب اور شاعری کا مرکز ہے، تو سیہون لعل شہباز قلندر کی وجہ سے روحانیت کا مرکزہے، ایسے ہی شہدا کا مرکز گڑھی خدا بخش ہے۔

انہوں نے سندھ یونیورسٹی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہندو برادری کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے 3 نومبر کو دیوالی کے تہوار کے دن انٹری ٹیسٹ کی تاریخ تبدیل کریں۔ تقریب سے سندھی لینگویج اتھارٹی کے سیکریٹری اور ادیب تاج جویو، پروفیسر نسرین تھیبو، نامور اداکار شہباز درانی، صحافی مصطفی سولنگی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔



اس موقع پر اداکار شہباز درانی، محمد حسین قادری، اسرار لغاری اور الطاف سومرو کو بہترین اداکاری پر مظہر حسین، سجاد یوسف اور رحمت میرانی کو بہترین گلوکاری پر، ساحر راہو، عامر اور آصی زمینی کو بہترین شاعر، زریاب حیدر، مظہر ابڑو، عبدالرشید کو بہترین کہانی نویس ، محمد خان سیال، مہوش بھٹو کو بہترین مضمون نویس، زیب نظامانی، علی محمد سولنگی کو بچوں کے ادب، ڈاکٹر پروین منشی، فراست شاہ اور نیلوفر بھٹو کو بہترین تعلیم دان، جعفر میمن، اظہار سومرو اور یاسین کو بہترین صحافی،

روزینہ جونیجو، رسول بخش اور تاج محمد ابڑو کو بہترین سماجی کارکن، نادر مغیری، فوزیہ حنا اور حزب اللہ کو بہترین بپلک ریلیشن آفیسر، گل کندھر، گل بدن جاوید مرزا، سلیم چنا، عرفان علی، پروفیسر مہرالنسا لاڑک، روشن کلہوڑو، ذوالفقار ہسبانی کو ادبی خدمات، ارم محبوب، ارم شہزادی، فریدہ کٹپرکو بہترین میزبان اور استاد روشن کو بہترین موسیقار کے شعبے میں شہید رانی ایوارڈ دیے گئے۔