ایم کیوایم سے نکاح ہوتے اورٹوٹتے رہے ہیں منظور وسان

ضرورت پڑی توحلالہ بھی کرلیں گے،ہم دھاندلیاں کرنا نہیںجانتے،صوبائی وزیر


Staff Reporter November 02, 2013
آئندہ حکومت اس ملک میں پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی،صحافیوں سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

سندھ کے وزیرجیل خانہ جات واینٹی کرپشن منظورحسین وسان نے کہاہے کہ صوبے میںبلدیاتی انتخابات جنوری کے آخریا فروری کے پہلے ہفتے میں ہوسکتے ہیں اور اس تاخیرکی ذمے داراپوزیشن جماعتیں ہیں۔

ایم کیو ایم سے نکاح ہوتے رہے ہیں اور ٹوٹتے رہے ہیں، ضرورت پڑی توحلالہ بھی کرالیںگے، آئندہ حکومت اس ملک میں پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی۔ وہ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعدصحافیوں سے گفتگوکررہے تھے۔ منظوروسان نے کہاکہ مشرف کی حامی پارٹیاں انتخابات میں دھاندلیوں میں ماہر ہیں لیکن ہم دھاندلیاں کرنا نہیں جانتے۔ صوبے کے عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ ہیںاور آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے ساتھ نکاح ماضی میںبھی ہوتے رہے اورٹوٹتے رہے ہیں۔ اب بھی اگرضرورت پڑی توہم حلالہ کرالیں گے۔ شرجیل میمن سمیت دیگرکے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اب خوابوں کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی میںمسلم لیگ(ف) کے پارلیمانی لیڈرامتیاز شیخ نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں قوانین کوبلڈوز کرکے بل منظور کرائے جارہے ہیں۔ فنکشنل لیگ بلدیاتی انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔



تاہم پیپلز پارٹی نے پری پول دھاندلیوں کے لیے تیاریاںشروع کردی ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف سے درخواست کروں گا کہ وہ سندھ کے عوام کووفاقی کی جانب سے گورکھ ہل کاتحفہ دیں۔ صوبے بھرمیں سیاسی انتقامی کارروائیوں کاسلسلہ جاری ہے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے امتیازشیخ نے کہاکہ گذشتہ روزسندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل جلدبازی میں پاس کرایاگیا، آج بھی اپنے ایک رکن قومی اسمبلی کونوازنے کے لیے گورکھ ہل (ترمیمی) بل پیش کیا گیا ہے۔ سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک اورآزاد کشمیرکے صدرکو بھی سندھ میں عہدے دیے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی خود اپنے ہی صوبائی وزیرپر عدم اعتماد کا اظہار کرکے ایک ایم این اے کونوازنے کے لیے اس کے بیٹے کوگورکھ ہل بورڈ کا چیئرمین بنا رہی ہے۔

ایک سوال پر امتیاز شیخ نے کہا کہ صوبے بھر میں ہونے والی حلقہ بندیاں ڈپٹی کمشنرز بند کمروں میں بیٹھ کر پیپلز پارٹی کے ایم این اے اورایم پی ایزکی ایماپر کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے حلقہ انتخابات کو توڑ مروڑ رہی ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے سوال پر انھوں نے کہاکہ مسلم لیگ(فنکشنل) انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن انتخابات صاف اور شفاف ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ ریٹرننگ آفیسرز اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرز بھی پیپلزپارٹی کے ماتحت ہیں اس لیے ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ صوبے میں صاف و شفاف اور حقیقی انتخابات چاہتی ہے تو آراوز اوراے آراوز کوجوڈیشریزسے تعینات کرے۔