4سال میںپاک چین تجارتی حجم 70فیصدبڑھ گیا

پاک چین تجارتی روابط کومزیدفروغ دینے کے مواقع موجود ہیں،پاکستانی سفیرکاانٹرویو


APP September 03, 2012
پاک چین تجارتی حجم جو 10سال قبل 2ارب ڈالرتھا اب 2011میں بڑھ کر 10.6ارب ڈالر ہوگیاہے۔ فوٹو: فائل

چین اورپاکستان کے درمیان باہمی تعلقات مضبوط بنیادوںپر استوار ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون،ثقافتی تبادلوں خاص طور پرعوام سے عوام کے رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار چین میں تعینات پاکستان کے سفیرمسعود خان نے چین کے بڑے ویب پورٹل چائنا ڈاٹ اورگڈات سی این کوایک خصوصی انٹرویودیتے ہوئے کیا، مسعودخان نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کی رفتار بہترین ہے تاہم دونوںممالک کو رابطوں کی اس سطح کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے تعلقات کو نئی سطح سے ہمکنارکرنے کی ضرورت ہے،انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ گزشتہ 4 سال کے دوران پاکستان کی اعلی قیادت نے 9 مرتبہ چین کا دورہ کیا،سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی 5بارچین آئے اوراسی طرح چین کے صدر وین جیابائو نے دسمبر 2010میں پاکستان کادورہ کیا۔

نائب وزیراعظم ژانگ ڈی چیانگ نے جون 2010اور اسٹیٹ قونصلرڈائی بنگو نے دسمبر 2011میں پاکستان کادورہ کیا،انھوںنے بتایاکہ وزیراعظم راجاپرویز اشرف رواں ماہ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کیلیے چین آئیںگے اوران کا یہ دورہ خصوصی نوعیت کاہو گاکیونکہ ان کے دورے سے پاک چین تعلقات کومزیدمضبوط اور تواناہونے میں مدد ملے گی،انھوں نے کہاکہ پاک چین تجارتی حجم جو 10سال قبل 2ارب ڈالرتھا اب 2011میں بڑھ کر 10.6ارب ڈالر ہوگیاہے،گزشتہ 4 سال میں اس حجم میں 70فیصد اضافہ ہوااور پاکستان سے چین کیلیے برآمدات دوگنا ہو کر 2.2ارب ڈالر پر آ گئیں،انھوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی روابط مزید بڑھانے کے بڑے مواقع موجود ہیںجن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔