زرداری کی زیر صدارت اجلاس پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ ڈرون حملے کی مذمت

دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلیے حکومت کا ساتھ دینگے، تحفظ پاکستان آرڈیننس پر تحفظات


Staff Reporter November 04, 2013
بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں، پیپلزپارٹی آئندہ ماہ عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا مطالبہ۔ فوٹو: فائل

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں پارٹی کو فعال کرنے کے لیے چاروں صوبوں، آزاد کشمیراور گلگت بلتستان میں پارٹی کی مرحلہ وار تنظیم نو کی جائے گی۔

اس حوالے سے وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر تنظیمی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جن کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ کردیا جائے گا، پیپلز پارٹی آئندہ ماہ سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کریگی اور ضلعی سطح پر عوامی رابطہ مہم کے تحت عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا ، پارٹی قیادت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور پارٹی رہنمائوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کردی جائے ، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں جبکہ سی ای سی نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس میں جو فیصلے کئے گئے تھے ان پر عمل درآمد کے لئے پیپلز پارٹی آئین وقانون کے مطابق حکومت کا بھرپور ساتھ دے گی جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور ملک کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے کیے جانیو الے اقدامات پر پارلیمنٹ اور سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔

یہ فیصلے اتوار کو بلاول ہائوس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے ، اجلاس کی صدارت پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کی۔ اجلاس میں مخدوم امین فہیم، فریال تالپور، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، خورشید شاہ، سید قائم علی شاہ، رضا ربانی، فرحت اللہ بابر، چوہدری عبدالمجید، مہدی شاہ، قمر زمان کائرہ، نوید قمر، فاروق نائیک، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، لطیف کھوسہ، جہانگیر بدر، اخوندہ زادہ، منظور وٹو، امتیاز صفدر وڑائچ، رحمن ملک، یوسف تالپور، علی نواز شاہ، رخسانہ بنگش، فوزیہ حبیب، اسلام الدین شیخ، ملک حاکمین، نثار کھوڑو، صادق عمرانی، عبدالقادر پٹیل، چوہدری یاسین، منظور وسان، مراد علی شاہ، مسز ثمینہ خالد گھرکی، جاوید بلوچ اور مسز بیلم حسنین ودیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، پاک امریکا تعلقات، حالیہ ڈرون حملے، توانائی کے بحران، بلدیاتی انتخابات، پیپلز پارٹی کی تنظیم نو، عوامی رابطہ مہم، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر ہونیو الی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت کی جانب سے ہونیوالی قانون سازی، سیاسی جماعتوں سے تعلقات اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔



ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے جو مفاہمتی پالیسی کا سفر شروع کیا تھا۔ آج اس کی بدولت ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کی جماعت ہے اور عوام ہی ہماری طاقت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے موجودہ حکومت آئین کے دائرہ کار میں رہ کر جو اقدامات کرے گی۔ ہم اس کا بھرپور ساتھ دیں گے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت تمام اہم فیصلوں پر سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے گی۔ انھوں نے پارٹی کے ارکان کو ہدایت کی کہ پارٹی کو ملک گیر سطح پر فعال کرنے کے لئے بھرپور انداز میں عوامی رابطہ مہم چلائی جائے اور پارٹی رہنما وکارکنان بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں کریں۔ ہم بھرپور طریقے سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ اپنے اپنے حلقوں میں عوام سے رابطوں کو فعال کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

اجلاس میں حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت کی گئی اور اسے ملکی خود مختاری کے خلاف قرار دیا گیا اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اس مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے تحت اقدامات کرے۔ اجلاس میں ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور قرار دیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں اور اس حوالے سے جو تحفظ پاکستان آرڈیننس منظور کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس میں جو بعض شقیں شامل کی گئی ہیں۔ ان شقوں پر عمل درآمد سے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، اس لئے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت پر زور دیا جائے گا کہ وہ اس قانون کا ازسر نو جائزہ لے۔ جن شقوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا پہلو سامنے آیا ہے۔ اس کو تبدیل کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قانون سازی میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ حکومت اس حوالے سے اقدامات نہیں کرے گی تو پیپلز پارٹی آئین کے مطابق بھرپور احتجاج کرے گی اور اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے طے کیا گیا کہ پیپلز پارٹی اس حوالے سے اپنی تجاویز حکومت کو دے گی، سرکاری اداروں کو منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اور ان کی نجکاری سے گریز کیا جائے۔اجلاس میں ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد بھی دی گئی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پارٹی کی تنظیم نو کی جائے گی اور جلد اس حوالے سے پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری اہم فیصلے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی حمایت کرتی ہے اور ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے حکومت کا ساتھ دیگی۔اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر قائم مقدمات اور ریفرنسوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان کا مقابلہ کیا جائیگا۔